اردو | جماعت ششم | مصنف: پطرس بخاری
پطرس بخاری اردو ادب کے سب سے مشہور مزاح نگاروں میں سے ایک ہیں۔ ان کی کتاب "پطرس کے مضامین" آج بھی اردو کے قارئین کے لیے ہنسی اور تفکر دونوں کا خزانہ ہے۔ ان کے مضمون "بچّے" میں وہ بڑی خوش اسلوبی سے چھوٹے بچوں کی فطرت، ان کے رونے دھونے اور والدین کی بے پناہ محبت کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ یہ مضمون سنجیدہ موضوع کو مزاحیہ انداز میں پیش کرنے کی بہترین مثال ہے۔
مصنف کے مطابق بچوں کی کئی قسمیں ہوتی ہیں، جیسے بلی کے بچے اور فاختہ کے بچے۔ مگر ان کی مراد صرف انسان کے بچوں سے ہے۔ ظاہری طور پر انسانی بچوں کی بھی کئی قسمیں بتائی جاتی ہیں: کوئی پیارا بچہ ہے، کوئی نتھا بچہ ہے، کوئی پھول سا بچہ اور کوئی چاند سا بچہ۔ مگر یہ سب خطابات صرف اس وقت تک قائم رہتے ہیں جب تک برخوردار پنگوڑے میں سویا رہے۔
جیسے ہی بچہ جاگتا ہے اور اس کے پانچوں حواس بیدار ہو جاتے ہیں، وہ ان تمام پیارے خطابات سے بے نیاز ہو کر ایک الارم کلاک کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مصنف نہایت مزاحیہ انداز میں کہتے ہیں کہ کہا جاتا ہے بچہ سنتا بھی ہے اور دیکھتا بھی ہے، لیکن انہیں آج تک اس کی قوتِ ناطقہ یا کسی اور "قوت" کا ثبوت نہیں ملا۔
مصنف کے پڑوس میں مرزا صاحب رہتے تھے جو نہایت شریف آدمی تھے۔ ان کے بچے بھی بہت سارے تھے۔ ان بچوں کی خاص بات یہ تھی کہ وہ باری باری روتے تھے۔ جب ایک بچے کا رونا تھمتا تو ان کا دوسرا برخوردار شروع ہو جاتا، اور جب وہ چپ ہوتا تو تیسرے کی باری آ جاتی۔ مصنف نے خاص طور پر "رات کی ڈیوٹی والے بچوں" کا ذکر کیا جن کا سر ذرا زیادہ باریک اور تیز آواز والا تھا۔
مصنف نے اس شور سے بچنے کی بہت کوششیں کیں — انگلیاں چٹخوائیں، سر کی کھال میں تیل جھسوایا، کانوں میں روئی ڈالی، اور لحاف میں سر لپیٹ کر سونے کی کوشش کی۔ مگر یہ سب بے سود رہا، بچے انہیں پھر بھی جگا دیتے تھے۔
جب بھی مصنف مرزا صاحب کے گھر جاتے، ایک بچہ ان کے حوالے کر دیا جاتا کہ اسے تھوڑا بہلائیں۔ مصنف کئی بار سوچتے کہ مرزا صاحب سے کہیں کہ ان کی راتوں کی "نغمہ سرائیوں" نے ان کی زندگی حرام کر دی ہے، نہ وہ رات کو سکون سے سو پاتے ہیں نہ دن کو کام کر پاتے۔ لیکن پھر یہ سوچ کر خاموش رہ جاتے کہ یہی وہ بچہ ہے جو آتا ہے تو ان کے کندھے پر بیٹھ کر ان کا منہ بھی چومتا ہے۔
مصنف طنزیہ انداز میں لکھتے ہیں کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہی وہ "نالائق" بچہ ہے جو رات کے دو بجے گلا پھاڑ پھاڑ کر روتا ہے۔ مگر مرزا صاحب اپنی محبت اور شفقت کے زور میں اپنے بچوں کی خامیاں سننے کو تیار نہیں تھے۔ یہ ہر والدین کی فطری کمزوری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی خرابیوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
مضمون کے آخر میں مصنف اپنے بچپن کا حوالہ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ اور ان کے ہم عمر بچے صرف بقرعید پر تھوڑا سا رویا کرتے تھے، اور اگر کوئی مہمان گھر آ جاتا تو تھوڑی سی ضد کر لیتے کیونکہ اس موقع پر ضد کارآمد ثابت ہوتی تھی۔ مگر آج کل کے بچے چوبیس گھنٹے متواتر روتے رہتے ہیں — ایسی مشق ان کے زمانے میں کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔
پطرس بخاری کے اس مضمون کی خاص بات ان کا ظریفانہ اور مشاہداتی اسلوب ہے۔ وہ روزمرہ کی عام سی صورتِ حال — بچوں کا رونا اور والدین کی محبت — کو ایسے دلچسپ اور مزاحیہ پیرائے میں بیان کرتے ہیں کہ قاری ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ مضمون انسانی فطرت کی ایک گہری حقیقت بھی بیان کرتا ہے: والدین کی محبت اکثر اپنی اولاد کی خامیوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔
یہ مضمون ہمیں سکھاتا ہے کہ مشکل اور روزمرہ کی چیزوں کو بھی مزاحیہ نظر سے دیکھا جا سکتا ہے، اور مزاح نگاری کسی سنجیدہ حقیقت کو نظرانداز کیے بغیر بھی قاری کو محظوظ کر سکتی ہے۔ پطرس بخاری کا یہ ہنر ہی انہیں اردو ادب کا لازوال مزاح نگار بناتا ہے۔
مضمون: اردو | جماعت ششم | TEC — The Education Consultancy
اردو | جماعت ششم | بچّے