TEC | بچّے — سبق و ورک شیٹ
TEC

👶 بچّے

اردو | جماعت ششم | مصنف: پطرس بخاری

😄
موضوع: بچّے | ماخذ: پطرس کے مضامین | صنف: مزاحیہ مضمون
سبق — اردو نثر
خاص الفاظ: فرض شناسی قوتِ ناطقہ بے نیاز نغمہ سرائی شفقت بسیار خوری
🤔 سوچیے اور بتایے کیا آپ کو مزاحیہ مضامین پسند ہیں؟ کیوں؟  |  کیا آپ نے کبھی کسی بچے کو روتے سے چپ کروانے کی کوشش کی ہے؟  |  کیا آپ اپنی کوشش میں کامیاب ہوئے؟

تعارف — بچوں کی اقسام

پطرس بخاری اردو ادب کے سب سے مشہور مزاح نگاروں میں سے ایک ہیں۔ ان کی کتاب "پطرس کے مضامین" آج بھی اردو کے قارئین کے لیے ہنسی اور تفکر دونوں کا خزانہ ہے۔ ان کے مضمون "بچّے" میں وہ بڑی خوش اسلوبی سے چھوٹے بچوں کی فطرت، ان کے رونے دھونے اور والدین کی بے پناہ محبت کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ یہ مضمون سنجیدہ موضوع کو مزاحیہ انداز میں پیش کرنے کی بہترین مثال ہے۔

مصنف کے مطابق بچوں کی کئی قسمیں ہوتی ہیں، جیسے بلی کے بچے اور فاختہ کے بچے۔ مگر ان کی مراد صرف انسان کے بچوں سے ہے۔ ظاہری طور پر انسانی بچوں کی بھی کئی قسمیں بتائی جاتی ہیں: کوئی پیارا بچہ ہے، کوئی نتھا بچہ ہے، کوئی پھول سا بچہ اور کوئی چاند سا بچہ۔ مگر یہ سب خطابات صرف اس وقت تک قائم رہتے ہیں جب تک برخوردار پنگوڑے میں سویا رہے۔

جاگنے کے بعد کی حقیقت

جیسے ہی بچہ جاگتا ہے اور اس کے پانچوں حواس بیدار ہو جاتے ہیں، وہ ان تمام پیارے خطابات سے بے نیاز ہو کر ایک الارم کلاک کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مصنف نہایت مزاحیہ انداز میں کہتے ہیں کہ کہا جاتا ہے بچہ سنتا بھی ہے اور دیکھتا بھی ہے، لیکن انہیں آج تک اس کی قوتِ ناطقہ یا کسی اور "قوت" کا ثبوت نہیں ملا۔

مصنف کی مزاحیہ کوششیں مصنف بتاتے ہیں کہ کئی بار ایسا اتفاق ہوا کہ کوئی روتا ہوا بچہ ان کے حوالے کر دیا گیا کہ ذرا اسے چپ کرائیں۔ انہوں نے بچے کے سامنے گانے گائے، شعر پڑھے، ناچ کر تالیاں بجائیں، گھٹنوں کے بل چل کر گھوڑے کی نقلیں اتاریں، بھیڑ بکری کی سی آوازیں نکالیں، اور سر کو بل کھلا کر بائیسکل چلانے کے نمونے پیش کیے۔ مگر کیا مجال کہ بچے کے رونے میں ذرا بھی فرق آیا ہو۔

مرزا صاحب اور ان کے بچے

مصنف کے پڑوس میں مرزا صاحب رہتے تھے جو نہایت شریف آدمی تھے۔ ان کے بچے بھی بہت سارے تھے۔ ان بچوں کی خاص بات یہ تھی کہ وہ باری باری روتے تھے۔ جب ایک بچے کا رونا تھمتا تو ان کا دوسرا برخوردار شروع ہو جاتا، اور جب وہ چپ ہوتا تو تیسرے کی باری آ جاتی۔ مصنف نے خاص طور پر "رات کی ڈیوٹی والے بچوں" کا ذکر کیا جن کا سر ذرا زیادہ باریک اور تیز آواز والا تھا۔

مصنف نے اس شور سے بچنے کی بہت کوششیں کیں — انگلیاں چٹخوائیں، سر کی کھال میں تیل جھسوایا، کانوں میں روئی ڈالی، اور لحاف میں سر لپیٹ کر سونے کی کوشش کی۔ مگر یہ سب بے سود رہا، بچے انہیں پھر بھی جگا دیتے تھے۔

اختر بیٹا کا کردار

جب بھی مصنف مرزا صاحب کے گھر جاتے، ایک بچہ ان کے حوالے کر دیا جاتا کہ اسے تھوڑا بہلائیں۔ مصنف کئی بار سوچتے کہ مرزا صاحب سے کہیں کہ ان کی راتوں کی "نغمہ سرائیوں" نے ان کی زندگی حرام کر دی ہے، نہ وہ رات کو سکون سے سو پاتے ہیں نہ دن کو کام کر پاتے۔ لیکن پھر یہ سوچ کر خاموش رہ جاتے کہ یہی وہ بچہ ہے جو آتا ہے تو ان کے کندھے پر بیٹھ کر ان کا منہ بھی چومتا ہے۔

"اختر بیٹا! ان کو سلام کرو، سلام کرو بیٹا! ان کا نام اختر ہے۔ صاحب، بڑا اچھا بیٹا ہے۔ کبھی ضد نہیں کرتا، کبھی نہیں روتا، ماں کو دق نہیں کرتا۔" — مرزا صاحب کی اختر کے بارے میں تعریف

مصنف طنزیہ انداز میں لکھتے ہیں کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہی وہ "نالائق" بچہ ہے جو رات کے دو بجے گلا پھاڑ پھاڑ کر روتا ہے۔ مگر مرزا صاحب اپنی محبت اور شفقت کے زور میں اپنے بچوں کی خامیاں سننے کو تیار نہیں تھے۔ یہ ہر والدین کی فطری کمزوری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی خرابیوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

مصنف کا بچپن کا تقابل

مضمون کے آخر میں مصنف اپنے بچپن کا حوالہ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ اور ان کے ہم عمر بچے صرف بقرعید پر تھوڑا سا رویا کرتے تھے، اور اگر کوئی مہمان گھر آ جاتا تو تھوڑی سی ضد کر لیتے کیونکہ اس موقع پر ضد کارآمد ثابت ہوتی تھی۔ مگر آج کل کے بچے چوبیس گھنٹے متواتر روتے رہتے ہیں — ایسی مشق ان کے زمانے میں کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔

مضمون کا اسلوب اور پیغام

پطرس بخاری کے اس مضمون کی خاص بات ان کا ظریفانہ اور مشاہداتی اسلوب ہے۔ وہ روزمرہ کی عام سی صورتِ حال — بچوں کا رونا اور والدین کی محبت — کو ایسے دلچسپ اور مزاحیہ پیرائے میں بیان کرتے ہیں کہ قاری ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ مضمون انسانی فطرت کی ایک گہری حقیقت بھی بیان کرتا ہے: والدین کی محبت اکثر اپنی اولاد کی خامیوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔

یہ مضمون ہمیں سکھاتا ہے کہ مشکل اور روزمرہ کی چیزوں کو بھی مزاحیہ نظر سے دیکھا جا سکتا ہے، اور مزاح نگاری کسی سنجیدہ حقیقت کو نظرانداز کیے بغیر بھی قاری کو محظوظ کر سکتی ہے۔ پطرس بخاری کا یہ ہنر ہی انہیں اردو ادب کا لازوال مزاح نگار بناتا ہے۔

TEC

بچّے — ورک شیٹ

مضمون: اردو | جماعت ششم | TEC — The Education Consultancy

📝
بچّے — پطرس بخاری
مضمون: اردو  |  جماعت: ششم  |  باب: بچّے
کل نمبر: ۳۲مدت: ۴۵ منٹ
نام طالب علم:
جماعت / سیکشن:
رول / GR نمبر:
تاریخ:
ہدایات: تمام سوالات لازمی ہیں۔  |  MCQ میں درست جواب کے گول خانے پر ✓ لگائیں۔  |  مختصر جواب ۲–۳ جملوں میں دیں۔  |  تفصیلی جواب واضح اور مربوط لکھیں۔
🔑 جوابات کی کنجی — (صرف اساتذہ کے لیے)
حصہ الف
کثیر الانتخاب سوالات — صحیح جواب منتخب کریں
نمبر: ۱۲
۱ باب "بچّے" کس مصنف کی تحریر ہے؟
اسعادت حسن منٹو
بپطرس بخاری
جمرزا ادیب
داحمد ندیم قاسمی

۲ یہ مضمون کس کتاب سے لیا گیا ہے؟
اباغ و بہار
بپطرس کے مضامین
جآب حیات
ددیوانِ غالب

۳ سوئے ہوئے بچے کے لیے مصنف نے کون سے الفاظ استعمال کیے؟
ابدمعاش بچہ
بپیارا بچہ، پھول سا بچہ
جشرارتی بچہ
دضدی بچہ

۴ جاگنے کے بعد بچہ کس چیز کی شکل اختیار کر لیتا ہے؟
افرشتے کی
بالارم کلاک کی
جگڑیا کی
دپرندے کی

۵ مصنف کے مطابق بچے میں کس چیز کا ثبوت نہیں ملتا؟
اقوتِ ناطقہ کا
ببھوک کا
جنیند کا
دصحت کا

۶ مصنف نے بچے کو ہنسانے کے لیے کس جانور کی نقل اتاری؟
ابلی کی
بگھوڑے کی
جبندر کی
دکوے کی

۷ مصنف کے پڑوسی کا نام کیا تھا؟
اخان صاحب
بمرزا صاحب
جشیخ صاحب
دسید صاحب

۸ مرزا صاحب کے بچے کس طرح روتے تھے؟
اسب ایک ساتھ خاموش رہتے
بباری باری، ایک رکتا تو دوسرا شروع ہو جاتا
جکبھی نہیں روتے تھے
دصرف دن میں روتے تھے

۹ مرزا صاحب اپنے بیٹے کو کیا کہہ کر پکارتے تھے؟
اراجا بیٹا
باختر بیٹا
جشاہ بیٹا
دمنے بیٹا

۱۰ حقیقت میں اختر کیسا بچہ تھا (مصنف کے مطابق)؟
اواقعی بہت اچھا
بوہی رات کو دو بجے گلا پھاڑ کر روتا تھا
جسب سے خاموش بچہ
دسب سے چھوٹا بچہ

۱۱ مصنف نے اپنے بچپن کا کیا حوالہ دیا؟
اہم روزانہ روتے تھے
بہم بقرعید پر تھوڑا سا رو لیا کرتے تھے
جہم کبھی نہیں روتے تھے
دہم ہر وقت ہنستے رہتے تھے

۱۲ یہ مضمون کس صنفِ ادب سے تعلق رکھتا ہے؟
انظم
بمزاحیہ مضمون
جافسانہ
دسوانح حیات
حصہ ب
مختصر جوابی سوالات — دو تا تین جملوں میں جواب دیں
نمبر: ۱۲ (ہر سوال: ۳)
۱مصنف نے بچے کو چپ کرانے کے لیے کیا کیا؟
مصنف نے بچے کے سامنے گانے گائے، شعر پڑھے، ناچ کر تالیاں بجائیں، گھوڑے کی نقل اتاری اور بائیسکل چلانے کا نمونہ پیش کیا۔ مگر بچے کے رونے میں کوئی فرق نہیں آیا۔
۲مرزا صاحب اپنے بچوں کی خامیاں کیوں نہیں سنتے تھے؟
مرزا صاحب اپنی محبت اور شفقت کے زور میں اپنے بچوں کی خامیاں سننے کو تیار نہیں تھے۔ یہ ہر والدین کی فطری کمزوری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی خرابیوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
۳مصنف کے مطابق بچے کی زندگی میں ہمیشہ کس چیز کی ضرورت رہتی ہے؟
مصنف کے مطابق بچے کی زندگی کا شاید ہی کوئی لمحہ ایسا گزرتا ہو جب اسے کسی نہ کسی قسم کے شور کی ضرورت نہ ہو — سلانے کے لیے لوری اور ہنسانے کے لیے مہمل فقرے چاہیے ہوتے ہیں۔
۴مصنف نے اپنے بچپن اور آج کل کے بچوں کا موازنہ کیسے کیا؟
مصنف کے مطابق ان کے بچپن میں وہ صرف بقرعید پر تھوڑا سا رویا کرتے تھے اور مہمان آنے پر تھوڑی سی ضد کرتے تھے۔ مگر آج کل کے بچے چوبیس گھنٹے متواتر روتے رہتے ہیں، جو پہلے دیکھنے میں نہیں آتا تھا۔
حصہ ج
تفصیلی سوال — مکمل جواب لکھیں
نمبر: ۸
سوال پطرس بخاری کے مضمون "بچّے" کا خلاصہ اپنے الفاظ میں بیان کریں۔ اس میں بچوں کی فطرت، مرزا صاحب کے خاندان کا واقعہ اور مضمون کا مرکزی پیغام شامل کریں۔
بچوں کی فطرت: سوتے ہوئے بچے کو پیارے نام دیے جاتے ہیں مگر جاگتے ہی وہ الارم کلاک کی طرح شور مچانے لگتا ہے۔ مصنف کی تمام مزاحیہ کوششیں (گانے، ناچ، نقلیں) بچے کے رونے پر بے اثر رہیں۔

مرزا صاحب کا خاندان: مرزا صاحب کے بچے باری باری روتے تھے۔ مصنف کی شور سے بچنے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔ مرزا صاحب اپنے بیٹے اختر کی جھوٹی تعریف کرتے تھے جبکہ وہی رات کو سب سے زیادہ روتا تھا۔

مرکزی پیغام: والدین کی محبت اکثر اولاد کی خامیوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ مضمون روزمرہ کی زندگی کو مزاحیہ نظر سے دیکھنے کا ہنر سکھاتا ہے۔
TEC

🔑 جوابات کی کنجی

اردو | جماعت ششم | بچّے

صرف اساتذہ کے لیے
حصہ الف
MCQ — درست جوابات
۱ب — پطرس بخاری
۲ب — پطرس کے مضامین
۳ب — پیارا/پھول سا بچہ
۴ب — الارم کلاک
۵ا — قوتِ ناطقہ
۶ب — گھوڑے کی
۷ب — مرزا صاحب
۸ب — باری باری
۹ب — اختر بیٹا
۱۰ب — رات کو روتا تھا
۱۱ب — بقرعید پر رونا
۱۲ب — مزاحیہ مضمون
حصہ ب
مختصر سوالات — نمونہ جوابات
سوال ۱: مصنف نے بچے کو چپ کرانے کے لیے کیا کیا؟
گانے، شعر، ناچ، گھوڑے کی نقل اور بائیسکل کا نمونہ — سب بے اثر رہا۔
سوال ۲: مرزا صاحب اپنے بچوں کی خامیاں کیوں نہیں سنتے تھے؟
اپنی محبت اور شفقت کے زور میں — یہ ہر والدین کی فطری کمزوری ہے۔
سوال ۳: بچے کی زندگی میں کس چیز کی ضرورت رہتی ہے؟
ہر لمحے کسی نہ کسی قسم کے شور کی — لوری یا مہمل فقروں کی۔
سوال ۴: مصنف کے بچپن اور آج کے بچوں میں کیا فرق تھا؟
مصنف صرف بقرعید پر تھوڑا روتے تھے؛ آج کے بچے چوبیس گھنٹے روتے ہیں۔
حصہ ج
تفصیلی سوال — نکاتِ جواب
سوال: مضمون "بچّے" کا خلاصہ بیان کریں۔
فطرت: سوئے بچے کو پیارے نام، جاگتے ہی الارم کلاک جیسا رویہ۔
مرزا صاحب: باری باری رونا، اختر کی جھوٹی تعریف بمقابلہ حقیقت۔
پیغام: محبت خامیوں پر پردہ ڈالتی ہے؛ روزمرہ زندگی کو مزاح سے دیکھنا سکھاتا ہے۔