اردو | جماعت ششم | مصنف: شان الحق حقی
یہ ایک دلچسپ مکالماتی مضمون ہے جس میں راوی کا ایک چچا آتے ہیں جن کا اصل نام ولی اللہ تھا مگر انہیں سب "چچا وِلسن" کی عرفیت سے پکارتے تھے۔ ایک دن چچا راوی کے کمرے میں ڈکشنری تلاش کرنے آئے۔ راوی نے چچا سے پوچھا کہ انہیں کون سی زبان کی ڈکشنری چاہیے، کیونکہ اگر انہیں اردو، فارسی یا عربی کی ڈکشنری چاہیے ہوتی تو وہ بالترتیب لغت، فرہنگ یا قاموس کہتے۔ چوں کہ چچا نے لفظ "ڈکشنری" استعمال کیا، اس لیے راوی نے سمجھا کہ انہیں انگریزی کی ڈکشنری چاہیے۔
چچا نے پہلے غلطی سے فرانسیسی ڈکشنری اٹھا لی، کیونکہ انگریزی اور فرانسیسی دونوں زبانیں رومن حروف میں لکھی جاتی ہیں۔ راوی نے یہ وضاحت کی کہ صرف حروف ایک جیسے ہونے سے زبان ایک نہیں ہو جاتی۔ اس کے بعد چچا نے بتایا کہ وہ لفظ "کوٹ" (COT) کے معنی ڈھونڈ رہے تھے۔
راوی نے واضح کیا کہ زبانوں اور قوموں کے درمیان الفاظ کا لین دین ایک فطری عمل ہے جو صدیوں سے جاری ہے۔ لیکن چچا کو ایک فکر لاحق تھی: اگر ہر جگہ اپنی زبان کے الفاظ کی بجائے انگریزی الفاظ بولے جائیں تو دنیا یہ سمجھے گی کہ ہمارے پاس اپنی زبان میں الفاظ ہی نہیں تھے۔ نئی ایجادات، سائنسی اصطلاحات اور مشینوں کے پرزوں کے لیے دوسری زبان کے الفاظ لینا مناسب ہے، مگر روزمرہ کے الفاظ کے لیے ایسا کرنا مناسب نہیں۔ سب قومیں نئی چیزوں کے لیے اپنی زبان میں موزوں الفاظ بناتی ہیں، اور اردو میں بھی یہ صلاحیت موجود ہے۔
مضمون کے مطابق اردو زبان کی ایک خاص صلاحیت یہ ہے کہ اس میں تمام ضروری حروف اور آوازیں موجود ہیں جو دوسری زبانوں میں یکجا نہیں ملتیں۔ اسی وجہ سے اردو دوسری زبانوں کے الفاظ آسانی سے اپنا بھی سکتی ہے۔ اس کے برعکس، انگریزی زبان میں "ت" اور "د" کی صحیح آواز کی کمی ہے، جس کی وجہ سے انگریزی بولنے والے "پاکستان" یا "زندہ باد" جیسے الفاظ کو صحیح طور پر ادا نہیں کر پاتے۔ اسی طرح انگریزی "خان" کا لفظ صرف "کان" کی آواز کے ساتھ بولتی ہے، خ کی صحیح آواز کے بغیر۔
اردو میں "دو چشمی ھ" کے ذریعے بھ، پھ، کھ، گھ جیسی آوازیں بنتی ہیں جو انگریزی اور فارسی، عربی میں نہیں پائی جاتیں۔ یہ اردو زبان کی ایک منفرد خصوصیت ہے جو اسے دوسری زبانوں سے ممتاز کرتی ہے۔
یہ مضمون ایک دلچسپ اور مزاحیہ گفتگو کے ذریعے ہمیں زبانوں کے مابین الفاظ کے تبادلے کی حقیقت سے آگاہ کرتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی بھی زبان کے الفاظ کا دوسری زبان میں جانا ایک فطری عمل ہے، مگر ہمیں اپنی زبان کی دولت اور اس کی منفرد خصوصیات کو نہیں بھولنا چاہیے۔ اردو ایک ایسی زبان ہے جو اپنی مکمل صوتی صلاحیت اور وسعت کی وجہ سے دوسری زبانوں سے سیکھنے اور انہیں الفاظ دینے، دونوں میں یکساں کامیاب ہے۔
مضمون: اردو | جماعت ششم | TEC — The Education Consultancy
اردو | جماعت ششم | چچا وِلسن