اردو | جماعت ششم | صنف: خط
یہ خط چکوال سے ۹ جون ۲۰۲۳ء کو لکھا گیا، جو جواد الرحمٰن نامی طالب علم نے اپنے دوست عاصم کے نام لکھا۔ خط کا آغاز روایتی انداز میں "پیارے عاصم! السلام علیکم!" سے ہوتا ہے۔ جواد اسکولوں کی چھٹیوں اور سخت گرمی کا ذکر کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اباجان نے وعدہ کیا ہے کہ چھٹی لے کر انہیں سوات کی سیر کے لیے لے جائیں گے۔
جواد بتاتا ہے کہ اباجان کے تبادلے کی وجہ سے وہ کراچی سے چکوال منتقل ہوئے تھے اور اسے تقریباً دو سال ہو چکے ہیں۔ شروع میں وہ بہت اداس رہا کیونکہ کراچی کی یادیں اس کے ذہن میں آتی رہتی تھیں، مگر رفتہ رفتہ وہ نئے ماحول سے مانوس ہو گیا۔ اسے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ چکوال کے بچے بھی وہی کھیل کھیلتے ہیں جو وہ کراچی میں کھیلا کرتے تھے، بس ناموں میں فرق ہے — جیسے آنکھ مچولی، گلی ڈنڈا اور پیٹھو گرم۔
جواد بتاتا ہے کہ اس نے چکوال میں ایک ایسا کھیل دیکھا جو کراچی میں کبھی نہیں دیکھا تھا — کبڈی۔ یہ کھیل چکوال میں بہت مقبول ہے۔ گاؤں گاؤں کے مقابلے دیکھنے کے لیے لوگ جمع ہوتے ہیں، ڈھول کی تھاپ اور تماشائیوں کا شور ماحول کو مزید پرجوش بنا دیتا ہے۔ کبڈی کا میدان عموماً گندم کی فصل کاٹنے کے بعد نرم مٹی والی زمین پر بنایا جاتا ہے۔
میدان کے درمیان ایک لکیر کھینچی جاتی ہے جسے "پالا" کہتے ہیں، اور اس کے دونوں جانب ایک ایک ٹیم کھڑی ہوتی ہے۔ ہر ٹیم میں دس دس کھلاڑی ہوتے ہیں، جن میں سے کچھ "چاپھی" اور کچھ "سائی" کہلاتے ہیں۔ ریفری سیٹی بجا کر کھیل کا آغاز کرتا ہے۔ "سائی" کھلاڑی "کبڈی کبڈی" کہتا ہوا مخالف ٹیم کے کھلاڑی کو چھونے آگے بڑھتا ہے۔ اگر وہ کسی کو چھو کر واپس آجائے تو اس کی ٹیم کو ایک نمبر ملتا ہے، اور اگر وہ پکڑا جائے یا اس کی سانس ٹوٹ جائے تو مخالف ٹیم کو نمبر مل جاتا ہے۔
مخالف کھلاڑی کو ٹانگوں سے قابو کرنے کے داؤ کو "قینچی مارنا" کہا جاتا ہے۔ اس کھیل میں پھرتی، طاقت اور حاضر دماغی کی ضرورت ہوتی ہے۔ محکمہ تعلیم نے اس کھیل کو تعلیمی درس گاہوں میں کھیلے جانے والے کھیلوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے اور یہ سالانہ کھیلوں کے مقابلوں میں بھی شامل ہے۔
جواد اپنے دوست عاصم کو چھٹیوں میں چکوال آنے کی دعوت دیتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ وہ اسے وہ مراحل دکھائے گا جو اس نے یہاں دیکھے ہیں۔ وہ عاصم سے کہتا ہے کہ گھر والوں کو اس کا سلام پہنچائے اور اپنے آنے کے پروگرام سے جلد آگاہ کرے۔ خط "والسلام" اور "تمھارا مخلص دوست، جواد الرحمٰن" پر ختم ہوتا ہے۔
یہ خط ذاتی خط نویسی کے صحیح اسلوب کی مثال ہے، جس میں مقام، تاریخ، مخاطب اور اختتامیہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ یہ خط مختلف علاقوں کے روایتی کھیلوں کے تنوع اور دوستی کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ نئے ماحول میں پہلے مشکل محسوس ہونا فطری ہے، مگر وقت کے ساتھ ہم نئی جگہ کی خوبیوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
مضمون: اردو | جماعت ششم | TEC — The Education Consultancy
اردو | جماعت ششم | دوست کے نام خط