اردو | جماعت ششم | مصنف: مسعود احمد برکاتی
حکیم محمد سعید ۹ جنوری ۱۹۲۰ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ابھی وہ چند سال ہی کے تھے کہ ان کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ان کی والدہ محترمہ نے انہیں ابتدائی دینی تعلیم دلوائی، اور بعد میں اردو، فارسی اور انگریزی گھر پر اساتذہ سے پڑھی۔ اس کے بعد وہ طب کی تعلیم کے لیے کالج میں داخل ہوئے۔ ۱۹۳۹ء میں انہوں نے طبیہ کالج دہلی سے طب کی سند حاصل کی، جسے حکیم اجمل خان (مسیح الملک) نے قائم کیا تھا۔
حکیم صاحب کے بڑے بھائی حکیم عبدالحمید نے ان کی عملی زندگی میں رہنمائی کی۔ انہوں نے "ہمدرد" میں کام کا آغاز کیا اور رسالہ "ہمدرد صحت" کی ادارت سنبھالی۔
حکیم صاحب پاکستان اس لیے آئے کہ وہ طبِ مشرق کی ترقی اور فروغ کے لیے کام کرنا چاہتے تھے۔ اس وقت پاکستان ایک نیا ملک تھا اور ہر چیز کی قلت تھی۔ حکیم صاحب کو سخت مالی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، معمولی جڑی بوٹیوں کا ملنا بھی دشوار تھا، مگر انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔
حکیم صاحب کو پاکستان سے بہت محبت تھی اور وہ نونہالوں کو اس طرح تیار کرنا چاہتے تھے کہ وہ بڑے ہو کر پاکستان کو مضبوط اور خوش حال بنائیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ہمدرد پبلک اسکول سے ہمدرد یونیورسٹی تک، ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز اور ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی تک بہت سے ادارے قائم کیے۔ انہوں نے بین الاقوامی اجتماعات منعقد کیے اور مسلمان سائنس دانوں ابنِ الہیثم اور البیرونی کے کارناموں کو نمایاں کرنے کے لیے ہزار سالہ جشن کا اہتمام کیا۔
حکیم صاحب اپنی ساری مصروفیات کے باوجود ہر ماہ چار شہروں میں پابندی سے جاتے، مطب کرتے اور شوریٰ ہمدرد نونہال اسمبلی میں شریک ہوتے تھے۔ یہ سلسلہ تیس سال سے بھی زیادہ عرصے تک پابندی سے جاری رہا۔ وہ دنیا کے اکثر بڑے ممالک اور شہروں کا سفر بھی کر چکے تھے۔ انہوں نے "سعید سیاح" کے قلمی نام سے سفرنامے لکھے — بڑوں کے لیے دس اور بچوں و نوجوانوں کے لیے چھتیس (۳۶)۔ انہوں نے "نونہال ادب" کا شعبہ بھی قائم کیا جس کے تحت اب تک سو کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ حکیم صاحب کو ڈائری لکھنے کی بھی عادت تھی، جو "سچی کہانیاں" کے عنوان سے شائع ہوتی تھی۔
حکیم محمد سعید ۱۹۹۳ء میں چھے ماہ تک سندھ کے گورنر بھی رہے۔ اس عہدے کی انہوں نے کوئی تنخواہ نہیں لی اور نہ ہی گورنر ہاؤس میں رہے۔ اس مختصر عرصے میں انہوں نے چار یونیورسٹیاں قائم کیں یا کالجوں کو یونیورسٹی کا درجہ دلوایا۔ ان کے اصول تھے: وقت کی پابندی، غذا میں اعتدال، سخت محنت اور سب سے بڑھ کر خلوصِ نیت سے ہر کام کرنا۔ انہی اصولوں کی بدولت وہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں ایک مثالی شخصیت کے طور پر مشہور ہوئے۔
حکیم محمد سعید کو پاکستان کے دشمنوں نے ۱۷ اکتوبر ۱۹۹۸ء بروز ہفتہ صبح ۹ بجے اپنے مطب کے باہر شہید کر دیا۔ اس وقت وہ روزے سے تھے۔ ان کے شروع کیے ہوئے کاموں سے آج بھی انسانیت فائدہ اٹھا رہی ہے۔
حکیم محمد سعید کی زندگی محنت، خلوصِ نیت اور خدمتِ خلق کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے ابتدائی مشکلات کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور علم، تعلیم اور صحت کے میدان میں بے شمار خدمات انجام دیں۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ وقت کی پابندی، محنت اور نیک نیتی سے انسان دنیا میں بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے۔
مضمون: اردو | جماعت ششم | TEC — The Education Consultancy
اردو | جماعت ششم | حکیم محمد سعید