TEC | حکیم محمد سعید — سبق و ورک شیٹ
TEC

📖 حکیم محمد سعید

اردو | جماعت ششم | مصنف: مسعود احمد برکاتی

🕊️
موضوع: حکیم محمد سعید | صنف: سوانحی مضمون
سبق — اردو نثر
خاص الفاظ: طبِ مشرق نونہال ادارت خلوصِ نیت شہادت صلاحیت
🤔 سوچیے اور بتایے کسی ایسی شخصیت کا نام بتائیے جو لوگوں کی خدمت کے لیے وقف رہی ہو؟  |  ہمدرد کا نام سنتے ہی آپ کے ذہن میں کیا آتا ہے؟

ابتدائی زندگی اور تعلیم

حکیم محمد سعید ۹ جنوری ۱۹۲۰ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ابھی وہ چند سال ہی کے تھے کہ ان کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ان کی والدہ محترمہ نے انہیں ابتدائی دینی تعلیم دلوائی، اور بعد میں اردو، فارسی اور انگریزی گھر پر اساتذہ سے پڑھی۔ اس کے بعد وہ طب کی تعلیم کے لیے کالج میں داخل ہوئے۔ ۱۹۳۹ء میں انہوں نے طبیہ کالج دہلی سے طب کی سند حاصل کی، جسے حکیم اجمل خان (مسیح الملک) نے قائم کیا تھا۔

حکیم صاحب کے بڑے بھائی حکیم عبدالحمید نے ان کی عملی زندگی میں رہنمائی کی۔ انہوں نے "ہمدرد" میں کام کا آغاز کیا اور رسالہ "ہمدرد صحت" کی ادارت سنبھالی۔

پاکستان آمد اور مشکلات کا سامنا

حکیم صاحب پاکستان اس لیے آئے کہ وہ طبِ مشرق کی ترقی اور فروغ کے لیے کام کرنا چاہتے تھے۔ اس وقت پاکستان ایک نیا ملک تھا اور ہر چیز کی قلت تھی۔ حکیم صاحب کو سخت مالی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، معمولی جڑی بوٹیوں کا ملنا بھی دشوار تھا، مگر انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔

ہمدرد نونہال کی بنیاد ۱۹۵۳ء میں حکیم صاحب نے بچوں کا رسالہ "ہمدرد نونہال" جاری کیا۔ اس کے ذریعے انہوں نے نونہالوں کو ایسا ادب فراہم کیا جو ذہنی تفریح کے ساتھ ساتھ علم میں اضافے کا وسیلہ بھی تھا۔ حکیم صاحب نے مسعود احمد برکاتی کو اس کا ایڈیٹر مقرر کیا۔ ہمدرد نونہال پڑھنے والوں میں آج کے حکیم، ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، سائنس داں اور دیگر شعبوں کے ممتاز افراد شامل ہیں۔

تعلیمی اداروں کا قیام

حکیم صاحب کو پاکستان سے بہت محبت تھی اور وہ نونہالوں کو اس طرح تیار کرنا چاہتے تھے کہ وہ بڑے ہو کر پاکستان کو مضبوط اور خوش حال بنائیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ہمدرد پبلک اسکول سے ہمدرد یونیورسٹی تک، ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز اور ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی تک بہت سے ادارے قائم کیے۔ انہوں نے بین الاقوامی اجتماعات منعقد کیے اور مسلمان سائنس دانوں ابنِ الہیثم اور البیرونی کے کارناموں کو نمایاں کرنے کے لیے ہزار سالہ جشن کا اہتمام کیا۔

ہمدرد نونہال
ہمدرد نونہال — بچوں کا مشہور رسالہ
ہمدرد یونیورسٹی
حکیم صاحب کے قائم کردہ تعلیمی ادارے

سفرنامے اور مصروف زندگی

حکیم صاحب اپنی ساری مصروفیات کے باوجود ہر ماہ چار شہروں میں پابندی سے جاتے، مطب کرتے اور شوریٰ ہمدرد نونہال اسمبلی میں شریک ہوتے تھے۔ یہ سلسلہ تیس سال سے بھی زیادہ عرصے تک پابندی سے جاری رہا۔ وہ دنیا کے اکثر بڑے ممالک اور شہروں کا سفر بھی کر چکے تھے۔ انہوں نے "سعید سیاح" کے قلمی نام سے سفرنامے لکھے — بڑوں کے لیے دس اور بچوں و نوجوانوں کے لیے چھتیس (۳۶)۔ انہوں نے "نونہال ادب" کا شعبہ بھی قائم کیا جس کے تحت اب تک سو کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ حکیم صاحب کو ڈائری لکھنے کی بھی عادت تھی، جو "سچی کہانیاں" کے عنوان سے شائع ہوتی تھی۔

گورنر سندھ اور اصول

حکیم محمد سعید ۱۹۹۳ء میں چھے ماہ تک سندھ کے گورنر بھی رہے۔ اس عہدے کی انہوں نے کوئی تنخواہ نہیں لی اور نہ ہی گورنر ہاؤس میں رہے۔ اس مختصر عرصے میں انہوں نے چار یونیورسٹیاں قائم کیں یا کالجوں کو یونیورسٹی کا درجہ دلوایا۔ ان کے اصول تھے: وقت کی پابندی، غذا میں اعتدال، سخت محنت اور سب سے بڑھ کر خلوصِ نیت سے ہر کام کرنا۔ انہی اصولوں کی بدولت وہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں ایک مثالی شخصیت کے طور پر مشہور ہوئے۔

پیدائش
۹ جنوری ۱۹۲۰ء، دہلی
ہمدرد نونہال کا آغاز
۱۹۵۳ء
گورنر سندھ
۱۹۹۳ء، چھے ماہ
شہادت
۱۷ اکتوبر ۱۹۹۸ء

شہادت

حکیم محمد سعید کو پاکستان کے دشمنوں نے ۱۷ اکتوبر ۱۹۹۸ء بروز ہفتہ صبح ۹ بجے اپنے مطب کے باہر شہید کر دیا۔ اس وقت وہ روزے سے تھے۔ ان کے شروع کیے ہوئے کاموں سے آج بھی انسانیت فائدہ اٹھا رہی ہے۔

نئی نسل کے نوجوانوں کے لیے حکیم محمد سعید ایک مثالی نمونہ ہیں جن کے نقشِ قدم پر چل کر وہ بھی کامیاب اور کارآمد زندگی گزار سکتے ہیں۔ — مسعود احمد برکاتی

خلاصہ اور پیغام

حکیم محمد سعید کی زندگی محنت، خلوصِ نیت اور خدمتِ خلق کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے ابتدائی مشکلات کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور علم، تعلیم اور صحت کے میدان میں بے شمار خدمات انجام دیں۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ وقت کی پابندی، محنت اور نیک نیتی سے انسان دنیا میں بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے۔

TEC

حکیم محمد سعید — ورک شیٹ

مضمون: اردو | جماعت ششم | TEC — The Education Consultancy

📝
حکیم محمد سعید
مضمون: اردو  |  جماعت: ششم  |  باب: حکیم محمد سعید
کل نمبر: ۳۲مدت: ۴۵ منٹ
نام طالب علم:
جماعت / سیکشن:
رول / GR نمبر:
تاریخ:
ہدایات: تمام سوالات لازمی ہیں۔  |  MCQ میں درست جواب کے گول خانے پر ✓ لگائیں۔  |  مختصر جواب ۲–۳ جملوں میں دیں۔  |  تفصیلی جواب واضح اور مربوط لکھیں۔
🔑 جوابات کی کنجی — (صرف اساتذہ کے لیے)
حصہ الف
کثیر الانتخاب سوالات — صحیح جواب منتخب کریں
نمبر: ۱۲
۱ حکیم محمد سعید کب پیدا ہوئے؟
ا۹ جنوری ۱۹۲۰ء
ب۱۴ اگست ۱۹۴۷ء
ج۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء
د۵ فروری ۱۹۳۵ء

۲ حکیم محمد سعید کہاں پیدا ہوئے؟
اکراچی
بدہلی
جلاہور
دلکھنؤ

۳ حکیم صاحب نے ۱۹۳۹ء میں کس کالج سے طب کی سند حاصل کی؟
اکنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج
بطبیہ کالج دہلی
جعلی گڑھ میڈیکل کالج
دپنجاب یونیورسٹی

۴ حکیم صاحب کے بڑے بھائی کون تھے جنہوں نے ان کی رہنمائی کی؟
احکیم عبدالحمید
بحکیم اجمل خان
جمسعود احمد برکاتی
دعبدالستار ایدھی

۵ حکیم صاحب پاکستان کیوں آئے؟
املازمت کی تلاش میں
بطبِ مشرق کی ترقی کے لیے کام کرنے
جسیاست میں حصہ لینے
دتعلیم حاصل کرنے

۶ حکیم صاحب نے بچوں کا رسالہ کب جاری کیا؟
ا۱۹۴۷ء میں
ب۱۹۵۳ء میں
ج۱۹۶۵ء میں
د۱۹۷۱ء میں

۷ ہمدرد نونہال کا ایڈیٹر کسے مقرر کیا گیا؟
احکیم عبدالحمید
بمسعود احمد برکاتی
جحکیم اجمل خان
دسعادت حسن منٹو

۸ حکیم صاحب نے سفرنامے کس قلمی نام سے لکھے؟
احکیم سیاح
بسعید سیاح
جنونہال سیاح
دہمدرد سیاح

۹ حکیم صاحب ۱۹۹۳ء میں کس صوبے کے گورنر رہے؟
اپنجاب
بسندھ
جبلوچستان
دخیبر پختونخوا

۱۰ حکیم صاحب کے اصول کیا تھے؟
ادولت کمانا سب کچھ ہے
بوقت کی پابندی، اعتدال، محنت اور خلوصِ نیت
جصرف آرام کرنا
ددوسروں پر انحصار کرنا

۱۱ حکیم صاحب کو کب شہید کیا گیا؟
ا۱۴ اگست ۱۹۹۸ء
ب۱۷ اکتوبر ۱۹۹۸ء
ج۲۳ مارچ ۱۹۹۸ء
د۶ ستمبر ۱۹۹۸ء

۱۲ شہادت کے وقت حکیم صاحب کی کیا حالت تھی؟
اوہ سفر پر تھے
بوہ روزے سے تھے
جوہ بیمار تھے
دوہ چھٹی پر تھے
حصہ ب
مختصر جوابی سوالات — دو تا تین جملوں میں جواب دیں
نمبر: ۱۲ (ہر سوال: ۳)
۱پاکستان آنے کے وقت حکیم صاحب کو کن مشکلات کا سامنا تھا؟
پاکستان ایک نیا ملک تھا اور ہر چیز کی قلت تھی۔ حکیم صاحب کو سخت مالی پریشانیوں کا سامنا تھا اور معمولی جڑی بوٹیوں کا ملنا بھی دشوار تھا، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔
۲حکیم صاحب نے کون سے تعلیمی ادارے قائم کیے؟
انہوں نے ہمدرد پبلک اسکول سے ہمدرد یونیورسٹی تک، ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز اور انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے کئی ادارے قائم کیے۔
۳گورنر کے عہدے میں حکیم صاحب نے کیا خاص بات اپنائی؟
انہوں نے کوئی تنخواہ نہیں لی اور گورنر ہاؤس میں بھی نہیں رہے۔ اس مختصر عرصے میں انہوں نے چار یونیورسٹیاں قائم کیں یا درجہ دلوایا۔
۴حکیم صاحب کہاں اور کیسے شہید ہوئے؟
انہیں پاکستان کے دشمنوں نے ۱۷ اکتوبر ۱۹۹۸ء کو ان کے مطب کے باہر صبح ۹ بجے شہید کر دیا۔ اس وقت وہ روزے سے تھے۔
حصہ ج
تفصیلی سوال — مکمل جواب لکھیں
نمبر: ۸
سوال حکیم محمد سعید کی زندگی، خدمات اور اصولوں کے بارے میں تفصیلی نوٹ لکھیں۔
ابتدائی زندگی: ۹ جنوری ۱۹۲۰ء دہلی میں پیدائش؛ طبیہ کالج دہلی سے سند؛ بھائی حکیم عبدالحمید کی رہنمائی۔

خدمات: ۱۹۵۳ء میں ہمدرد نونہال کا آغاز؛ متعدد تعلیمی ادارے قائم کیے؛ سعید سیاح کے نام سے سفرنامے لکھے۔

اصول اور شہادت: وقت کی پابندی، اعتدال، محنت، خلوصِ نیت؛ ۱۹۹۳ء میں بلا معاوضہ گورنر سندھ رہے؛ ۱۷ اکتوبر ۱۹۹۸ء کو شہید ہوئے۔
TEC

🔑 جوابات کی کنجی

اردو | جماعت ششم | حکیم محمد سعید

صرف اساتذہ کے لیے
حصہ الف
MCQ — درست جوابات
۱ا — ۹ جنوری ۱۹۲۰ء
۲ب — دہلی
۳ب — طبیہ کالج دہلی
۴ا — حکیم عبدالحمید
۵ب — طبِ مشرق
۶ب — ۱۹۵۳ء
۷ب — مسعود احمد برکاتی
۸ب — سعید سیاح
۹ب — سندھ
۱۰ب — پابندی، اعتدال
۱۱ب — ۱۷ اکتوبر ۱۹۹۸ء
۱۲ب — روزے سے
حصہ ب
مختصر سوالات — نمونہ جوابات
سوال ۱: پاکستان آنے پر مشکلات کیا تھیں؟
مالی پریشانی اور جڑی بوٹیوں کی قلت، مگر ہمت نہیں ہاری۔
سوال ۲: کون سے ادارے قائم کیے؟
ہمدرد پبلک اسکول سے یونیورسٹی تک، آئی ٹی انسٹی ٹیوٹ وغیرہ۔
سوال ۳: گورنر کے عہدے کی خاص بات؟
بلا معاوضہ خدمت، چار یونیورسٹیاں قائم کیں۔
سوال ۴: کہاں اور کیسے شہید ہوئے؟
۱۷ اکتوبر ۱۹۹۸ء، مطب کے باہر، روزے کی حالت میں۔
حصہ ج
تفصیلی سوال — نکاتِ جواب
سوال: حکیم محمد سعید کی زندگی اور خدمات۔
ابتدا: ۱۹۲۰ء دہلی، طبیہ کالج۔
خدمات: ہمدرد نونہال، تعلیمی ادارے، سفرنامے۔
اصول و شہادت: اعتدال و خلوص، ۱۹۹۸ء میں شہادت۔