TEC | خزانہ — سبق و ورک شیٹ
TEC

💎 خزانہ

اردو | جماعت ششم | مصنف: مرزا ادیب

📖
موضوع: خزانہ | ایثار، دوستی اور لالچ کا انجام
سبق — اخلاقی کہانی
خاص الفاظ: سرائے جانفشانی لالچ احسان فرض ہم درد دوست
🤔 سوچیے اور بتایے ایثار کے کیا کہتے ہیں؟  |  کیا آپ نے کبھی کسی کے لیے ایثار کیا؟  |  کسی اور نے آپ کے لیے ایثار کیا ہو تو بتائیے کب اور کیسے؟

کہانی کا آغاز

سردیوں کے دن تھے۔ دو دوست، عامر اور فیاض، جو دونوں دکان دار تھے، ایک ویران راستے سے گزر رہے تھے جو دو شہروں کے درمیان واقع تھا۔ وہ ہر مہینے کچھ چیزوں کی خریداری کے لیے شہر جاتے اور رات ایک سرائے میں گزارتے تھے۔ ایک دن سفر کے دوران تھک کر وہ ایک گھنے پیڑ کے نیچے بیٹھ کر سستانے لگے۔

ایک پُراسرار ملاقات

فیاض کو نیند میں محسوس ہوا کہ اس کا ساتھی کسی سے باتیں کر رہا ہے۔ بیدار ہونے پر اس نے دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی درختوں کے پیچھے غائب ہو رہا ہے۔ فیاض نے عامر سے پوچھا کہ وہ بوڑھا کون تھا اور اس نے کیا باتیں کیں، مگر عامر نے بالکل انکار کر دیا کہ کچھ ہوا ہے۔ دونوں پرانے دوست تھے اور ایک دوسرے پر اعتماد کرتے تھے، مگر اس شام عامر اپنے دوست پر اعتماد نہیں کر رہا تھا۔ فیاض نے اصرار کرنا مناسب نہ سمجھا اور دونوں سرائے کے اندر چلے گئے۔

رات کا خفیہ سفر رات کو عامر بار بار کروٹیں بدل رہا تھا۔ فیاض کو یقین ہو چکا تھا کہ اس کا ساتھی کوئی خاص کارروائی کرنے والا ہے۔ وہ سونے کا بہانہ کیے لیٹا رہا۔ آدھی رات کو عامر چار پائی سے اٹھا اور دبے پاؤں کمرے سے نکل گیا۔ فیاض نے ٹارچ لی اور اس کا پیچھا کیا۔

سانپ کا حادثہ

فیاض نے عامر کو اسی درخت کے قریب پایا جہاں وہ شام کو رکے تھے۔ عامر سخت درد میں تھا اور اپنا ہاتھ دبائے ہوئے تھا۔ اس نے بمشکل کہا: "فیاض! سانپ!" فیاض سمجھ گیا کہ اسے سانپ نے کاٹا ہے۔ اسے فوراً خیال آیا کہ اگر جلدی علاج نہ ہوا تو اس کا دوست دنیا سے اٹھ جائے گا۔

خزانہ کی کہانی
فیاض دوست کو پیٹھ پر لاد کر اسپتال لے جاتا ہے
سچی دوستی
سچی دوستی — دنیا کا سب سے بڑا خزانہ

دوستی کا حقِ ایثار

فیاض نے زخمی عامر کو اپنی پیٹھ پر لادا اور نئے شہر کی طرف چل پڑا۔ یہ سفر انتہائی مشکل تھا، بوجھ بھاری تھا، سانس رک رہا تھا مگر اس کے قدم نہیں رکے۔ خوش قسمتی سے اسپتال میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر جاگ رہا تھا۔ اس نے فوراً عامر کو آپریشن روم لے جایا۔ چند منٹ کی تاخیر اور عامر کی جان جا سکتی تھی، مگر بروقت علاج سے وہ بچ گیا۔

دو کردار
عامر اور فیاض — دونوں دکان دار
حادثہ
سانپ کا کاٹنا (رات میں زمین کھودتے ہوئے)
فیاض کا عمل
دوست کو پیٹھ پر لاد کر اسپتال پہنچانا
اصل خزانہ
سچا اور ہم درد دوست

عامر کا اعتراف

صبح تک عامر کی حالت بہتر ہو گئی۔ گھر پہنچ کر اس نے فیاض سے اعتراف کیا: "لالچ نے میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی۔" اس نے بتایا کہ بوڑھے آدمی نے اسے کہا تھا کہ درخت کے نیچے خزانہ دفن ہے۔ اسی لالچ میں اس نے یہ بات فیاض کو نہیں بتائی اور آدھی رات کو اکیلے زمین کھودتے ہوئے سانپ نے اسے کاٹ لیا۔ فیاض نے اس کے شکریے پر جواب دیا کہ یہ اس کا فرض تھا، احسان نہیں، کیوں کہ دوست ایک دوسرے کے لیے یہی کام کرتے ہیں۔

"کیا تم سمجھتے ہو کہ مجھے خزانہ نہیں ملا؟ یہ ہے میرا دنیا کا سب سے قیمتی خزانہ۔ ایک سچا اور ہم درد دوست دنیا کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔" — عامر، فیاض کا ہاتھ پکڑ کر

خلاصہ اور پیغام

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کی سب سے قیمتی چیز سونا، چاندی یا دفن شدہ خزانہ نہیں بلکہ ایک سچا اور مخلص دوست ہے۔ لالچ انسان کو غلط راستے پر لے جا سکتا ہے، جبکہ سچی دوستی اور ایثار انسان کی جان بھی بچا سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دوستوں کی قدر کریں اور لالچ سے بچیں۔

TEC

خزانہ — ورک شیٹ

مضمون: اردو | جماعت ششم | TEC — The Education Consultancy

📝
خزانہ — مرزا ادیب
مضمون: اردو  |  جماعت: ششم  |  باب: خزانہ
کل نمبر: ۳۲مدت: ۴۵ منٹ
نام طالب علم:
جماعت / سیکشن:
رول / GR نمبر:
تاریخ:
ہدایات: تمام سوالات لازمی ہیں۔  |  MCQ میں درست جواب کے گول خانے پر ✓ لگائیں۔  |  مختصر جواب ۲–۳ جملوں میں دیں۔  |  تفصیلی جواب واضح اور مربوط لکھیں۔
🔑 جوابات کی کنجی — (صرف اساتذہ کے لیے)
حصہ الف
کثیر الانتخاب سوالات — صحیح جواب منتخب کریں
نمبر: ۱۲
۱ یہ کہانی کس نے لکھی؟
اپطرس بخاری
بمرزا ادیب
جمسعود احمد برکاتی
داحمد ندیم قاسمی

۲ کہانی کے دو کرداروں کے نام کیا ہیں؟
ااحمد اور علی
بعامر اور فیاض
جحسن اور حسین
دبلال اور عمر

۳ عامر اور فیاض کیا کام کرتے تھے؟
اکسان تھے
بدکان دار تھے
جاساتذہ تھے
دڈاکٹر تھے

۴ بیدار ہونے پر فیاض نے کیا دیکھا؟
اکچھ نہیں دیکھا
بایک بوڑھا آدمی درختوں کے پیچھے غائب ہو رہا تھا
جایک جانور بھاگ رہا تھا
دبارش شروع ہو گئی

۵ اس شام عامر کے رویے میں کیا تبدیلی آئی؟
اوہ زیادہ باتیں کرنے لگا
بوہ اپنے پرانے دوست پر اعتماد نہیں کر رہا تھا
جوہ خوش ہو گیا
دکوئی تبدیلی نہیں آئی

۶ آدھی رات کو عامر نے کیا کیا؟
اگہری نیند سو گیا
بچار پائی سے اٹھ کر خاموشی سے کمرے سے نکلا
جفیاض کو جگایا
دکھانا کھایا

۷ عامر نے فیاض کو کیا بتایا کہ اسے کیا ہوا؟
ااسے چوٹ لگی
بسانپ نے کاٹا ہے
جوہ گر گیا
داسے بخار ہے

۸ فیاض نے زخمی عامر کو کیسے شہر پہنچایا؟
اگاڑی میں بٹھا کر
باسے اپنی پیٹھ پر لاد کر
جکسی اور سے مدد لے کر
دوہیں چھوڑ دیا

۹ عامر نے گھر پہنچ کر کیا اعتراف کیا؟
ااسے کچھ یاد نہیں تھا
بلالچ نے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی
جوہ بے قصور تھا
داسے کسی بات کا افسوس نہیں

۱۰ بوڑھے آدمی نے عامر کو کیا بتایا تھا؟
انیا کاروبار کرنے کو کہا
بدرخت کے نیچے خزانہ دفن ہے
جاسے راستہ بتایا
دکچھ نہیں بتایا

۱۱ فیاض نے عامر کے شکریے پر کیا جواب دیا؟
ااحسان جتایا
بیہ اس کا فرض تھا، احسان نہیں
جانکار کر دیا
دکچھ نہیں کہا

۱۲ کہانی کا آخری اور مرکزی جملہ کیا ہے؟
ادولت ہی سب کچھ ہے
بایک سچا اور ہم درد دوست دنیا کا سب سے بڑا خزانہ ہے
جلالچ اچھی چیز ہے
داکیلے چلنا بہتر ہے
حصہ ب
مختصر جوابی سوالات — دو تا تین جملوں میں جواب دیں
نمبر: ۱۲ (ہر سوال: ۳)
۱فیاض نے عامر کو کہاں اور کس حالت میں پایا؟
فیاض نے عامر کو اسی درخت کے قریب پایا جہاں وہ شام کو رکے تھے۔ عامر سخت درد میں تھا اور اپنا ہاتھ دبائے ہوئے تھا۔
۲اسپتال میں کیا خوش قسمتی ہوئی؟
خوش قسمتی سے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر جاگ رہا تھا، جس نے فوراً عامر کا علاج شروع کیا اور اس کی جان بچا لی۔
۳عامر رات کو زمین کیوں کھود رہا تھا؟
بوڑھے آدمی نے بتایا تھا کہ درخت کے نیچے خزانہ دفن ہے۔ عامر لالچ میں اکیلے یہ خزانہ حاصل کرنے کے لیے زمین کھود رہا تھا۔
۴عامر نے اصل خزانہ کسے قرار دیا اور کیوں؟
عامر نے فیاض کو اصل خزانہ قرار دیا کیوں کہ اس کا سچا دوست ہی اس کی جان بچانے والا اور دنیا کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔
حصہ ج
تفصیلی سوال — مکمل جواب لکھیں
نمبر: ۸
سوال کہانی "خزانہ" کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیں اور بتائیں کہ اس سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے۔
کہانی کا خلاصہ: عامر اور فیاض دو دکان دار دوست تھے۔ ایک بوڑھے آدمی نے عامر کو خزانے کا راز بتایا؛ لالچ میں آ کر عامر اکیلے رات کو کھودتے ہوئے سانپ کے کاٹنے سے زخمی ہوا۔ فیاض نے اسے پیٹھ پر لاد کر اسپتال پہنچایا اور جان بچائی۔

سبق: دنیا کی سب سے قیمتی چیز سچا دوست ہے، دولت نہیں۔ لالچ انسان کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ سچی دوستی اور ایثار جان بچا سکتے ہیں۔
TEC

🔑 جوابات کی کنجی

اردو | جماعت ششم | خزانہ

صرف اساتذہ کے لیے
حصہ الف
MCQ — درست جوابات
۱ب — مرزا ادیب
۲ب — عامر اور فیاض
۳ب — دکان دار
۴ب — بوڑھا آدمی
۵ب — اعتماد نہیں کیا
۶ب — خاموشی سے نکلا
۷ب — سانپ نے کاٹا
۸ب — پیٹھ پر لاد کر
۹ب — لالچ کی وجہ سے
۱۰ب — خزانہ دفن ہے
۱۱ب — یہ فرض تھا
۱۲ب — سچا دوست خزانہ ہے
حصہ ب
مختصر سوالات — نمونہ جوابات
سوال ۱: عامر کہاں اور کس حالت میں ملا؟
درخت کے قریب، سخت درد میں، ہاتھ دبائے ہوئے۔
سوال ۲: اسپتال میں کیا خوش قسمتی ہوئی؟
ڈیوٹی ڈاکٹر جاگ رہا تھا، فوری علاج ملا۔
سوال ۳: عامر رات کو کیوں کھود رہا تھا؟
خزانہ نکالنے کے لالچ میں۔
سوال ۴: اصل خزانہ کسے قرار دیا؟
فیاض کو — سچے دوست کو۔
حصہ ج
تفصیلی سوال — نکاتِ جواب
سوال: کہانی کا خلاصہ اور سبق۔
خلاصہ: لالچ، سانپ کا کاٹنا، فیاض کی مدد۔
سبق: سچا دوست سب سے بڑا خزانہ ہے۔