معاشرتی علوم | جماعت ششم | نشانِ حیدر
پاکستان کی سرزمین ایسے بہادر سپوتوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنے وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں۔ انہی میں سے ایک نام سوار محمد حسین شہید کا ہے، جنہوں نے ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ میں ایسی بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا کہ حکومتِ پاکستان نے انہیں ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز "نشانِ حیدر" عطا کیا۔ وہ نشانِ حیدر حاصل کرنے والوں کی فہرست میں چھٹے نمبر پر آتے ہیں۔ ان سے پہلے یہ اعزاز تین میجر، ایک کیپٹن اور ایک پائلٹ آفیسر کو دیا جا چکا تھا۔
جنگ کے حالات کے بارے میں صوبے دار امیر خان نے ایک یادگار بیان دیا جس میں انہوں نے میدانِ جنگ کی ہولناکی کو الفاظ میں بیان کیا۔
۱۹۶۵ء میں، یعنی فوج میں شمولیت کے پانچویں برس، بھارت نے مغربی پاکستان کے محاذ پر جنگ چھیڑ دی۔ سوار محمد حسین اس وقت شکر گڑھ کے محاذ پر تعینات تھے۔ جب بھارت نے راتوں رات حملہ کیا تو انہوں نے ساری رات مجاہدین کو اسلحہ فراہم کرنے میں مصروف رہے۔ ان کے شعبے کا کام جنگی گاڑیوں سے متعلق تھا، یعنی اسلحہ اور فوجیوں کو محاذ تک پہنچانا۔
حالات کی سنگینی دیکھ کر سوار محمد حسین نے اپنے کمانڈنگ افسر کے پاس جا کر درخواست کی کہ انہیں بھی جنگ میں براہِ راست شرکت کی اجازت دی جائے۔ ان کے جذبے کو دیکھ کر افسر نے اجازت دے دی اور ساتھ ہی ایک ٹینک شکن رائفل بھی عطا کی۔ سوار محمد حسین نے فوراً اپنی پوزیشن سنبھالی اور دشمن کے ٹھکانوں کو زبردست نشانہ بنانا شروع کیا۔
ان کی درست نشانہ بازی کی وجہ سے پاک فوج نے دشمن کے سولہ ٹینک تباہ کر دیے۔ اس دوران تمام مجاہد "اللہ اکبر" کی صدائیں بلند کرتے ہوئے پیش قدمی کرتے رہے۔ اسی دوران دشمن کے ایک سپاہی نے سوار محمد حسین کو اپنی مشین گن سے نشانہ بنایا۔ ان کے سینے اور سارے جسم پر اتنے شدید زخم آئے کہ وہ اسی موقع پر شہید ہو گئے۔
سوار محمد حسین کی شہادت ۱۰ دسمبر ۱۹۶۵ء کو ہوئی۔ شہادت کے وقت ان کی عمر صرف ۲۲ سال تھی۔ ان کی یہ عظیم قربانی رائیگاں نہیں گئی — اس نے پاک فوج کے حوصلے اتنے بلند کر دیے کہ فوج نے پورے عزم اور جرأت کے ساتھ بھارتی افواج پر ٹوٹ پڑی، جس کے نتیجے میں بھارتی افواج وہ محاذِ جنگ چھوڑ کر فرار ہو گئیں۔
ان کی بہادرانہ کارکردگی اور جاں نثاری کے باعث حکومتِ پاکستان نے انہیں سب سے بڑے فوجی اعزاز "نشانِ حیدر" سے نوازا۔ نشانِ حیدر دشمن سے چھینے گئے اسلحے کو پگھلا کر تیار کیا جاتا ہے، جس میں سونا بھی شامل ہوتا ہے۔ یہ اعزاز صرف ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو وطن کے لیے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہید ہو چکے ہوں۔ اب تک پاکستان میں گیارہ شہدا کو یہ اعزاز دیا جا چکا ہے۔
سوار محمد حسین شہید کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ وطن کی محبت اور بہادری کسی عہدے یا رتبے کی محتاج نہیں ہوتی۔ ایک عام سپاہی بھی اپنے جذبے اور جرأت سے تاریخ رقم کر سکتا ہے۔ ان کی شہادت آج بھی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ آزادی اور سلامتی کی قیمت ان جیسے بہادر سپوتوں کی قربانیوں سے چکائی جاتی ہے، اور ہمیں ان کی قربانیوں کا احترام کرتے ہوئے اپنے وطن سے محبت اور وفاداری کا عہد کرنا چاہیے۔
مضمون: معاشرتی علوم | جماعت ششم | TEC — The Education Consultancy
معاشرتی علوم | جماعت ششم | سوار محمد حسین شہید