اردو | جماعت ششم | مصنف: پروفیسر حشمت اللہ لودھی
کہا جاتا ہے کہ کسی زمانے میں یونان میں دو باپ بیٹے رہا کرتے تھے جنہیں پرندوں کی طرح پر لگا کر ہوا میں اڑنے کا بہت شوق تھا۔ باپ کا نام دیدالوس اور بیٹے کا نام اکاروس تھا۔ انہوں نے موم کے بڑے بڑے پنکھ بنائے اور ان کی مدد سے ہوا میں پرواز کرنے لگے۔ اکاروس بے خیالی میں اڑتے اڑتے سورج کے قریب چلا گیا، جس سے موم پگھل گیا اور وہ نیچے گر کر ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ یہ محض ایک قصہ کہانی ہے، مگر یہ انسان کے اڑنے کے دیرینہ خواب کی عکاسی کرتی ہے۔
موجودہ ہوائی جہاز کے حقیقی بانی اور موجد دو بھائی تھے، ولبر رائٹ اور آروِیل رائٹ، جنہیں عام طور پر "رائٹ برادران" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ولبر رائٹ ۱۸۶۷ء میں اور آروِیل رائٹ ۱۸۷۱ء میں پیدا ہوئے، یعنی ولبر آروِیل سے تقریباً چار سال بڑا تھا۔ دونوں بھائیوں میں پرواز کا شوق بچپن ہی سے تھا۔ بچپن میں ان کے والد نے انہیں ایک ہیلی کاپٹر نما کھلونا لا کر دیا جو ان کو بہت پسند آیا۔ جب یہ کھلونا پرانا ہو گیا تو انہوں نے ویسا ہی کھلونا خود تیار کر ڈالا۔
مسلسل کوششوں کے بعد وہ ایک ایسا انجن بنانے میں کامیاب ہو گئے جو چھوٹا اور ہلکا ہونے کے علاوہ خاصا طاقت ور بھی تھا۔ یہ انجن انہوں نے اپنے بنائے ہوئے ایک بڑے گلائیڈر میں نصب کیا اور اسے کیٹی ہاک کے مقام پر لے گئے، جو ریاست ہائے متحدہ امریکا کے شمال مشرق میں ساحل سمندر پر واقع ایک چھوٹا سا مقام ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں یہ دونوں بھائی برسوں سے گلائیڈر اڑانے کی مشق کر رہے تھے۔
جب ہوائی جہاز پہاڑ پر پرواز کے لیے تیار کھڑا تھا، سوال یہ تھا کہ دونوں بھائیوں میں سے پہلے پرواز کون کرے۔ یہ ٹاس کے ذریعے طے ہوا، اور ولبر رائٹ یعنی بڑا بھائی جیت گیا۔ وعدے کے مطابق وہ پہلے ہوائی جہاز میں سوار ہوا، لیکن بدقسمتی سے جیسے ہی جہاز کو نیچے دھکیلا گیا، وہ پرواز کیے بغیر ریت پر آ گرا۔ اس میں انجن ٹوٹ گیا اور پروں کو تھوڑا نقصان پہنچا، مگر خوش قسمتی سے ولبر کو کوئی چوٹ نہیں آئی۔
اس واقعے کے چند دن بعد، جہاز کو ٹھیک کر کے ایک بار پھر اسی پہاڑی پر لے جایا گیا۔ اب باری تھی چھوٹے بھائی آروِیل کی۔ انجن اسٹارٹ کیا گیا، ولبر نے جہاز کو دھکا دیا، وہ ہوا میں اڑا اور دونوں بھائیوں کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ان کا جہاز بلند ہوا اور آرام سے ریت پر اتر گیا۔
حالانکہ یہ پرواز صرف ۱۲ سیکنڈ تک جاری رہی اور اس نے صرف ۱۲۰ فٹ کا فاصلہ طے کیا، لیکن یہ ایجادات کی دنیا کا ایک بہت بڑا کارنامہ تھا۔ اس واقعے سے ایجادات کی تاریخ کا ایک نیا باب شروع ہوتا ہے۔
۱۹۱۰ء میں دونوں بھائیوں نے ڈیٹن کے مقام پر ہوائی جہاز بنانے کا ایک کارخانہ تعمیر کیا جہاں وہ ہر مہینے دو جہاز تیار کر لیا کرتے تھے۔ اس کے دو سال بعد ولبر ٹائی فائیڈ کے مرض میں مبتلا ہو کر ۳۰ مئی ۱۹۱۲ء کو انتقال کر گیا۔ چھوٹے بھائی آروِیل کا انتقال ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ء کو ہوا۔
رائٹ برادران کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ بچپن کا کوئی چھوٹا سا شوق بھی، اگر محنت اور استقلال سے آگے بڑھایا جائے، تو انسانیت کی تاریخ بدل سکتا ہے۔ ان کی چار سالہ مسلسل کوشش اور ناکامیوں کے باوجود ہمت نہ ہارنا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کامیابی صبر اور محنت کا نتیجہ ہوتی ہے۔
مضمون: اردو | جماعت ششم | TEC — The Education Consultancy
اردو | جماعت ششم | رائٹ برادران