اردو | جماعت ششم | صنف: تقریر
یہ تقریر حبِ وطنی یعنی وطن سے محبت کے موضوع پر مبنی ہے، جو ایک طالب علم اسکول کی تقریری تقریب میں پیش کرتا ہے۔ مقرر اپنی بات کا آغاز کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اپنے وطن سے محبت کو حبِ وطنی کہا جاتا ہے۔ یہ فطری بات ہے کہ ہر انسان اس جگہ سے محبت کرتا ہے جہاں وہ پیدا ہوتا ہے۔ جو لوگ تعلیم یا روزگار کے لیے بیرونِ ملک جاتے ہیں، انہیں اپنے وطن سے محبت کا احساس اور بھی شدت سے ہوتا ہے۔
مقرر کے مطابق پاکستان کے قیام کو اقوامِ عالم کی تاریخ میں ایک معجزہ کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ "پاکستان" نام کا کوئی ملک اس جغرافیے میں پہلے کبھی موجود نہیں تھا۔ اسے ہندوستان کے ان علاقوں کو تراش کر تخلیق کیا گیا جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ تاریخ میں اسلام کی بنیاد پر ملک بنانے کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔
مقرر بتاتا ہے کہ بہت سے لوگ پاکستان سے اس لیے محبت کرتے ہیں کہ یہاں خوب صورت وادیاں، سرسبز جنگل، بلند اور برف پوش پہاڑ، بہترین سمندری ساحل، وسیع صحرا، دریا، زرخیز میدان اور کشادہ زمین موجود ہے۔ مگر مقرر سوال اٹھاتا ہے کہ وادیاں، جنگل، پہاڑ اور ریگستان تو دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں، تو کیا ہم ان ملکوں سے بھی محبت کرنے لگیں گے؟ ہرگز نہیں۔
در اصل جس چیز نے پاکستان کا وجود ممکن بنایا، وہی اس ملک کی سب سے بڑی خوبی ہے، اور وہ چیز ہے کلمہ طیبہ۔ تحریکِ پاکستان کے دوران اسی کلمے سے برصغیر کے کونے کونے میں یہ نعرہ گونجا تھا: "پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ۔" اس لیے پاکستان سے ہماری محبت کی اصل اور واحد وجہ اسلام ہے۔
قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی پکار پر برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں نے "لبیک" کہا اور پاکستان کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کیا۔ مقرر کو افسوس ہے کہ قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ اپنے خواب کی تعبیر دیکھنے سے پہلے ہی وفات پا گئے۔ اب یہ نئی نسل کا کام ہے کہ پاکستان کو اس منزل تک پہنچائے جس کے لیے یہ قائم ہوا تھا اور جس کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔
مقرر کے مطابق حبِ الوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم وہ تمام کام کریں جو پاکستان کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ طلبہ ہی وہ طبقہ ہیں جنہوں نے پاکستان کی مستقبل کی ذمہ داریاں اٹھانی ہیں، اس لیے ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا شعور حاصل کریں اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے علم و ہنر حاصل کریں۔
مقرر اپنی تقریر کے آخر میں ایک دعا کے ساتھ اختتام کرتا ہے: "سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم آباد، سوہنی دھرتی ماں لگے قدم آباد۔" اور آخر میں سب کو ساتھ ملا کر نعرہ لگانے کی دعوت دیتا ہے: "پاکستان زندہ باد!"
یہ تقریر ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ پاکستان سے محبت کی بنیاد صرف اس کی قدرتی خوب صورتی نہیں بلکہ اس نظریے میں پوشیدہ ہے جس کی بنیاد پر یہ ملک وجود میں آیا — یعنی اسلام۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد رکھیں اور علم و ہنر حاصل کر کے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
مضمون: اردو | جماعت ششم | TEC — The Education Consultancy
اردو | جماعت ششم | یہ میرا وطن