اردو | جماعت ششم
اردو میں میڈیا کو ذرائع ابلاغ کہتے ہیں۔ میڈیا کوئی ایک چیز نہیں بلکہ بہت سی چیزوں کا مجموعہ ہے، جیسے اخبارات، بل بورڈز، پمفلٹ، ریڈیو، ٹی وی، فلم اور انٹرنیٹ سے منسلک تمام مواد جس میں الفاظ، تصاویر، ویڈیو کلپ اور آواز شامل ہے۔ ان سب چیزوں کا مقصد کوئی نہ کوئی خبر، اطلاع، پیغام یا معلومات پہنچانا ہوتا ہے۔ تعلیم اور ہنر سیکھنا، کاروبار کرنا، اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنا، تفریح اور سیاحت کی آسانیاں — یہ سب میڈیا نے آسان کر دیا ہے۔ گھر بیٹھے دورافتادہ علاقوں میں رہنے والوں سے رابطہ کرنا اب پہلے کبھی جتنا آسان نہیں تھا۔
ان تمام آسانیوں کے ساتھ ایک بات یاد رکھنا ضروری ہے: میڈیا ہمیں دنیا کے بارے میں معلومات دیتا ہے، یہ ہمیں دنیا خود نہیں دیتا، بلکہ اس کا صرف وہ پہلو دکھاتا ہے جس سے اس کا کوئی مقصد پورا ہو رہا ہو۔ ہماری حقیقی دنیا میڈیا کی دنیا سے مختلف ہو سکتی ہے۔ میڈیا کسی واقعے یا حقیقت کو جوں کا توں ہمارے سامنے پیش نہیں کرتا، بلکہ اپنی پالیسی اور حکمتِ عملی کے تحت اسے توڑ مروڑ کر سامنے لاتا ہے۔ ہمیں اس پر آنکھیں بند کر کے یقین نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنا ذہن استعمال کرتے ہوئے غور و فکر سے کام لینا چاہیے۔
میڈیا کی پیش کش پر یقین کرنے سے پہلے ہمیں تحقیق کر لینی چاہیے۔ تحقیق کے لیے علم ضروری ہے اور علم کے لیے مطالعہ اور غور و فکر لازمی ہے۔ اگر تحقیق سے کوئی بات سچ ثابت ہو تو اس پر یقین کر لیں، ورنہ اسے مسترد کر دیں۔ میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات سے بچنا بہت ضروری ہے۔ اسی لیے سورۃ الحجرات میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔
جب ہم کوئی فلم یا ڈراما دیکھتے ہیں تو ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ دکھایا جا رہا ہے وہ حقیقت نہیں بلکہ فرضی ہے۔ مثال کے طور پر اگر فلم میں دو اداکاروں کو باپ اور بیٹا دکھایا گیا ہے تو وہ حقیقی باپ بیٹا نہیں ہوتے بلکہ اجنبی ہوتے ہیں۔ اسی طرح فلم یا ڈرامے کی کہانی بھی حقیقی نہیں ہوتی، مگر میڈیا اسے حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس کی پیش کش میں سارا اختیار میڈیا کے پاس ہوتا ہے، لیکن اسے پیش کرنے کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ وہ سچ معلوم ہونے لگتا ہے۔ میڈیا کی پیش کش پر یقین کرنا یا نہ کرنا ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔
ابتدا میں میڈیا کا کام ضروری معلومات اور اطلاعات عوام تک پہنچانا تھا۔ میڈیا کی ترقی اور اثرات بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے کام کا دائرہ بھی پھیلتا گیا۔ آج میڈیا اپنے اصل فرض کی ادائی کے ساتھ ساتھ غیر ضروری معلومات بھی ہم تک پہنچا رہا ہے۔
یہ سبق ہمیں سکھاتا ہے کہ میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے جو ہماری زندگی کے کئی پہلوؤں کو آسان بناتا ہے، لیکن اسے استعمال کرتے وقت ہمیں محتاط اور باشعور رہنا چاہیے۔ ہمیں میڈیا کی پیش کش پر آنکھیں بند کر کے یقین کرنے کے بجائے تحقیق اور غور و فکر کی عادت اپنانی چاہیے تاکہ ہم صحیح اور غلط میں تمیز کر سکیں اور اپنی زندگی میں میڈیا کا مثبت اور مفید استعمال کر سکیں۔
مضمون: اردو | جماعت ششم | TEC — The Education Consultancy
اردو | جماعت ششم | ذرائع ابلاغ