اردو | جماعت ہفتم
حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسلام کی تاریخ کی ان عظیم ہستیوں میں سے ہیں جنہیں ام المومنین کا بلند مرتبہ حاصل ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہا قریش کے ایک معزز اور شریف خاندان بنو اسد سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپ کے والد کا نام خویلد بن اسد تھا، جو اپنے زمانے میں خاندانی شرافت اور سخاوت کی وجہ سے ممتاز سمجھے جاتے تھے۔
آپ رضی اللہ عنہا کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں دیانت، امانت اور حسنِ اخلاق کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ اسی پاکیزہ تربیت کے باعث آپ بچپن ہی سے سچائی، نیک نیتی اور فہم و فراست میں اپنی مثال آپ تھیں۔ قریش کے لوگ آپ کو ان کی پاکیزہ زندگی کے باعث "طاہرہ" کے لقب سے یاد کرتے تھے۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنے زمانے کی نہایت کامیاب اور باوقار تاجرہ تھیں۔ آپ کا تجارتی کاروبار عرب کے اندرونی اور بیرونی علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہا کی دیانت، امانت داری اور حسنِ سلوک کی شہرت پورے مکہ میں عام تھی۔ آپ اپنے ملازمین اور تجارتی شراکت داروں کے ساتھ نہایت اچھا برتاؤ کرتیں اور انہیں مناسب اجرت دیتیں۔
آپ رضی اللہ عنہا اپنا سامانِ تجارت دوسرے قابلِ بھروسا افراد کے ذریعے بھی بھجوایا کرتی تھیں، کیونکہ آپ خود اپنی دانائی سے امانت دار اور دیانت دار لوگوں کو پہچان لیتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ جب آپ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وأصحابہ وسلم کی صداقت، امانت اور اعلیٰ اخلاق کے بارے میں سن رکھا تھا، تو آپ نے خود انہیں اپنا سامانِ تجارت لے کر شام جانے کی دعوت دی۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا سب سے نمایاں اور تاریخی کردار اس وقت سامنے آیا جب غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وأصحابہ وسلم گھبرائے ہوئے گھر تشریف لائے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے انہیں تسلی دی اور پورے یقین کے ساتھ ان کی باتوں کی تصدیق کی۔ اس طرح آپ پوری دنیا میں سب سے پہلی شخصیت بنیں جنہوں نے رسالت کی تصدیق کی اور ایمان لائیں۔
اس کے بعد جب مکہ کے کفار نے مخالفت اور سختی کا سلسلہ شروع کیا، تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ہر مشکل گھڑی میں اپنے مال اور حوصلے سے بھرپور ساتھ دیا۔ شعبِ ابی طالب کے محاصرے کے دوران بھی، جب مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا، آپ نے صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ہاں دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں پیدا ہوئیں۔ ان میں حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سب سے زیادہ معروف ہیں۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہمیشہ گھر کے ماحول کو پرسکون اور خوشگوار رکھنے کا اہتمام کرتیں، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وأصحابہ وسلم کے عبادت کے لیے غارِ حرا جانے کے وقت ضرورت کا سامان خود تیار کرتیں۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا وصال نبوت کے دسویں سال رمضان المبارک میں ہوا۔ آپ کی وفات نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وأصحابہ وسلم کو شدید رنجیدہ کر دیا، کیونکہ آپ ایک وفادار، محبت کرنے والی اور ہر مشکل میں ساتھ نبھانے والی رفیقہ تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وأصحابہ وسلم نے کئی برسوں بعد بھی آپ کا ذکر محبت اور احترام سے فرمایا۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچائی، دیانت داری، فراست اور وفاداری ایک عظیم انسان کی پہچان ہیں۔ آپ کی زندگی سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حق کی تائید اور مشکل وقت میں ساتھ دینا کتنا بڑا کارنامہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنی زندگی میں سچائی، امانت داری اور حسنِ اخلاق کو اپنائیں۔
مضمون: اردو / سیرت | جماعت ہفتم
سیرت | جماعت ہفتم | حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا