حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا — سبق و ورک شیٹ
TEC

🌙 ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

اردو | جماعت ہفتم

🇵🇰
موضوع: حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا | ام المومنین | پہلی مسلمان خاتون
سبق — سیرت
خاص الفاظ: فراست تدبّر حکمت ایثار امانت داری دیانت تجارت تصدیق
🤔 سوچیے اور بتایے ام المومنین کے معنی کیا ہیں؟  |  کیا آپ کسی ایسی خاتون کو جانتے ہیں جو اپنی دانائی اور حسنِ اخلاق کی وجہ سے مشہور ہو؟

خاندان اور ابتدائی زندگی

حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسلام کی تاریخ کی ان عظیم ہستیوں میں سے ہیں جنہیں ام المومنین کا بلند مرتبہ حاصل ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہا قریش کے ایک معزز اور شریف خاندان بنو اسد سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپ کے والد کا نام خویلد بن اسد تھا، جو اپنے زمانے میں خاندانی شرافت اور سخاوت کی وجہ سے ممتاز سمجھے جاتے تھے۔

آپ رضی اللہ عنہا کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں دیانت، امانت اور حسنِ اخلاق کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ اسی پاکیزہ تربیت کے باعث آپ بچپن ہی سے سچائی، نیک نیتی اور فہم و فراست میں اپنی مثال آپ تھیں۔ قریش کے لوگ آپ کو ان کی پاکیزہ زندگی کے باعث "طاہرہ" کے لقب سے یاد کرتے تھے۔

قبیلہ
بنو اسد (قریش)
والد کا نام
خویلد بن اسد
لقب
طاہرہ، خدیجۃ الکبریٰ
مرتبہ
ام المومنین، پہلی مسلمان خاتون

تجارتی بصیرت اور حسنِ اخلاق

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنے زمانے کی نہایت کامیاب اور باوقار تاجرہ تھیں۔ آپ کا تجارتی کاروبار عرب کے اندرونی اور بیرونی علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہا کی دیانت، امانت داری اور حسنِ سلوک کی شہرت پورے مکہ میں عام تھی۔ آپ اپنے ملازمین اور تجارتی شراکت داروں کے ساتھ نہایت اچھا برتاؤ کرتیں اور انہیں مناسب اجرت دیتیں۔

آپ رضی اللہ عنہا اپنا سامانِ تجارت دوسرے قابلِ بھروسا افراد کے ذریعے بھی بھجوایا کرتی تھیں، کیونکہ آپ خود اپنی دانائی سے امانت دار اور دیانت دار لوگوں کو پہچان لیتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ جب آپ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وأصحابہ وسلم کی صداقت، امانت اور اعلیٰ اخلاق کے بارے میں سن رکھا تھا، تو آپ نے خود انہیں اپنا سامانِ تجارت لے کر شام جانے کی دعوت دی۔

نکاحِ مبارک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وأصحابہ وسلم کی امانت، صداقت اور اعلیٰ اخلاق سے متاثر ہو کر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے خود نکاح کا پیغام بھجوایا، جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وأصحابہ وسلم نے قبول فرمایا۔ اس مبارک رشتے سے دونوں خاندانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

نزولِ وحی اور تائید و تصدیق

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا سب سے نمایاں اور تاریخی کردار اس وقت سامنے آیا جب غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وأصحابہ وسلم گھبرائے ہوئے گھر تشریف لائے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے انہیں تسلی دی اور پورے یقین کے ساتھ ان کی باتوں کی تصدیق کی۔ اس طرح آپ پوری دنیا میں سب سے پہلی شخصیت بنیں جنہوں نے رسالت کی تصدیق کی اور ایمان لائیں۔

اس کے بعد جب مکہ کے کفار نے مخالفت اور سختی کا سلسلہ شروع کیا، تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ہر مشکل گھڑی میں اپنے مال اور حوصلے سے بھرپور ساتھ دیا۔ شعبِ ابی طالب کے محاصرے کے دوران بھی، جب مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا، آپ نے صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔

"اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کبھی آپ کو رسوا نہ کرے گا، آپ تو رشتے داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، امانتیں ادا کرتے ہیں اور نیک کاموں میں مدد دیتے ہیں۔" — حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے الفاظ کا مفہوم

اولاد اور خانگی زندگی

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ہاں دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں پیدا ہوئیں۔ ان میں حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سب سے زیادہ معروف ہیں۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہمیشہ گھر کے ماحول کو پرسکون اور خوشگوار رکھنے کا اہتمام کرتیں، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وأصحابہ وسلم کے عبادت کے لیے غارِ حرا جانے کے وقت ضرورت کا سامان خود تیار کرتیں۔

وصال اور مقام

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا وصال نبوت کے دسویں سال رمضان المبارک میں ہوا۔ آپ کی وفات نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وأصحابہ وسلم کو شدید رنجیدہ کر دیا، کیونکہ آپ ایک وفادار، محبت کرنے والی اور ہر مشکل میں ساتھ نبھانے والی رفیقہ تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وأصحابہ وسلم نے کئی برسوں بعد بھی آپ کا ذکر محبت اور احترام سے فرمایا۔

سبق اور پیغام

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچائی، دیانت داری، فراست اور وفاداری ایک عظیم انسان کی پہچان ہیں۔ آپ کی زندگی سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حق کی تائید اور مشکل وقت میں ساتھ دینا کتنا بڑا کارنامہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنی زندگی میں سچائی، امانت داری اور حسنِ اخلاق کو اپنائیں۔

TEC

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا — ورک شیٹ

مضمون: اردو / سیرت | جماعت ہفتم

🇵🇰
ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
مضمون: اردو  |  جماعت: ہفتم  |  موضوع: سیرتِ صحابیات
کل نمبر: ۳۲ مدت: ۴۵ منٹ
نام طالب علم:
جماعت / سیکشن:
رول / GR نمبر:
تاریخ:
ہدایات: تمام سوالات لازمی ہیں۔  |  MCQ میں درست جواب کے گول خانے پر نشان لگائیں۔  |  مختصر جوابات ۲–۳ جملوں میں دیں۔  |  تفصیلی جواب واضح اور مربوط انداز میں لکھیں۔
🔑 جوابات کی کنجی — (صرف اساتذہ کے لیے)
حصہ الف
کثیر الانتخاب سوالات — صحیح جواب منتخب کریں
نمبر: ۱۲
۱ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تعلق کس خاندان سے تھا؟
ابنو ہاشم
ببنو اسد
جبنو امیہ
دبنو زہرہ

۲ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد کا نام کیا تھا؟
اخویلد بن اسد
بابو طالب
جابو سفیان
دعبدالمطلب

۳ اہلِ مکہ آپ رضی اللہ عنہا کو کس لقب سے یاد کرتے تھے؟
اصدیقہ
بطاہرہ
جفاروقہ
دعابدہ

۴ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنے زمانے میں کس کام میں مشہور تھیں؟
اشاعری
بتجارت
جطب
دخطاطی

۵ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وأصحابہ وسلم کو کیوں دعوت دی؟
اان کی شاعری کی وجہ سے
بان کی صداقت اور امانت کی وجہ سے
جان کی دولت کی وجہ سے
دان کے قبیلے کی وجہ سے

۶ سامانِ تجارت لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وأصحابہ وسلم کہاں تشریف لے گئے؟
ایمن
بشام
جمصر
دعراق

۷ نکاح کا پیغام کس نے بھیجا؟
احضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے
بحضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے خود
جابو طالب نے
دعبدالمطلب نے

۸ پہلی وحی کے بعد گھبرائے ہوئے گھر تشریف لانے پر کس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وأصحابہ وسلم کو تسلی دی؟
اابو طالب نے
بحضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے
جحضرت ورقہ بن نوفل نے
دحضرت حلیمہ نے

۹ سب سے پہلے کس نے رسالت کی تصدیق کی اور ایمان لائیں؟
احضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
بحضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا
جحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا
دحضرت زینب رضی اللہ عنہا

۱۰ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادیوں میں سب سے معروف کون تھیں؟
احضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا
بحضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا
جحضرت رقیہ رضی اللہ عنہا
دحضرت زینب رضی اللہ عنہا (تنہا)

۱۱ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا وصال کب ہوا؟
انبوت کے پانچویں سال
بنبوت کے دسویں سال رمضان میں
جہجرت کے بعد
دفتح مکہ کے سال

۱۲ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کس مشکل وقت میں ساتھ نبھایا؟
اجنگِ بدر
بشعبِ ابی طالب کے محاصرے کے دوران
جفتح مکہ کے موقع پر
دصلح حدیبیہ کے دوران
حصہ ب
مختصر جوابی سوالات — دو تا تین جملوں میں جواب دیں
نمبر: ۱۲ (ہر سوال: ۳)
۱حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنی تجارت میں کیوں کامیاب تھیں؟
آپ رضی اللہ عنہا دیانت دار، فراست والی اور امانت دار افراد کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ آپ اپنے ملازمین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتی تھیں، جس کی وجہ سے آپ کی تجارت پورے عرب میں پھیلی ہوئی تھی۔
۲پہلی وحی کے موقع پر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کیا کردار ادا کیا؟
جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وأصحابہ وسلم گھبرائے ہوئے گھر تشریف لائے تو آپ نے انہیں تسلی دی اور پورے یقین کے ساتھ ان کی صداقت کی تصدیق کی، اور یوں سب سے پہلی مسلمان خاتون ہونے کا شرف حاصل کیا۔
۳شعبِ ابی طالب کے محاصرے میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا؟
انتہائی مشکل حالات کے باوجود آپ نے صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا اور اپنے مال اور حوصلے سے مسلمانوں کا بھرپور ساتھ دیا۔
۴حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی خانگی زندگی کیسی تھی؟
آپ کے ہاں دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں پیدا ہوئیں، جن میں حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سب سے معروف ہیں۔ آپ گھر کا ماحول ہمیشہ پرسکون اور محبت بھرا رکھتیں۔
حصہ ج
تفصیلی سوال — مکمل جواب لکھیں
نمبر: ۸
سوال حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی زندگی کا مختصر جائزہ لیں۔ ان کے خاندان، تجارتی بصیرت، نکاح، نزولِ وحی کے موقع پر کردار اور وصال کا احوال بیان کریں اور بتائیں کہ ہمیں ان کی زندگی سے کیا سبق ملتا ہے۔
خاندان: آپ بنو اسد کے معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، والد کا نام خویلد بن اسد تھا اور قریش آپ کو "طاہرہ" کے لقب سے یاد کرتے تھے۔

تجارت: آپ ایک نہایت کامیاب اور امانت دار تاجرہ تھیں، جن کا کاروبار عرب کے اندرونی و بیرونی علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔

نکاح: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وأصحابہ وسلم کی صداقت اور امانت سے متاثر ہو کر آپ نے خود نکاح کا پیغام بھجوایا۔

نزولِ وحی: پہلی وحی کے موقع پر آپ نے تسلی دی اور سب سے پہلے ایمان لانے کا شرف حاصل کیا۔

وصال: نبوت کے دسویں سال رمضان میں وصال ہوا۔

سبق: سچائی، دیانت، فراست اور وفاداری ہی ایک عظیم شخصیت کی پہچان ہیں۔
TEC

🔑 جوابات کی کنجی

سیرت | جماعت ہفتم | حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا

صرف اساتذہ کے لیے
حصہ الف
MCQ — درست جوابات
۱ب — بنو اسد
۲ا — خویلد بن اسد
۳ب — طاہرہ
۴ب — تجارت
۵ب — صداقت و امانت
۶ب — شام
۷ب — حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے خود
۸ب — حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے
۹ب — حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا
۱۰ب — حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا
۱۱ب — نبوت کے دسویں سال رمضان
۱۲ب — شعبِ ابی طالب کا محاصرہ
حصہ ب
مختصر سوالات — نمونہ جوابات
سوال ۱: حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنی تجارت میں کیوں کامیاب تھیں؟
فراست، دیانت داری اور امانت دار افراد کو پہچاننے کی صلاحیت کے باعث آپ کی تجارت کامیاب رہی۔
سوال ۲: پہلی وحی کے موقع پر آپ نے کیا کردار ادا کیا؟
آپ نے تسلی دی اور سب سے پہلے رسالت کی تصدیق کر کے ایمان لائیں۔
سوال ۳: شعبِ ابی طالب کے محاصرے میں آپ نے کیا کیا؟
صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا اور مال و حوصلے سے ساتھ دیا۔
سوال ۴: حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی خانگی زندگی کیسی تھی؟
دو صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں ہوئیں، گھر کا ماحول پرسکون رکھتیں۔
حصہ ج
تفصیلی سوال — نکاتِ جواب
سوال: حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی زندگی کا تفصیلی جائزہ لیں۔
خاندان: بنو اسد — والد خویلد بن اسد — لقب طاہرہ۔
تجارت: امانت دار اور کامیاب تاجرہ۔
نکاح: خود پیغام بھجوایا۔
نزولِ وحی: سب سے پہلے ایمان لائیں۔
وصال: نبوت کے دسویں سال رمضان۔
سبق: سچائی، دیانت اور وفاداری۔