عبدالستار ایدھی — سبق و ورک شیٹ
TEC

🤝 عبدالستار ایدھی — فرشتۂ رحمت

اردو | جماعت ہفتم

🇵🇰
موضوع: عبدالستار ایدھی | عظیم سماجی خدمت گار | بانی ایدھی فاؤنڈیشن
سبق — اردو نثر
خاص الفاظ: خدمتِ خلق رفاہی ایثار سادگی انسانیت رضاکار فلاحی تنظیم خلوصِ نیت
🤔 سوچیے اور بتایے کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جس نے دوسروں کی مدد کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی ہو؟  |  آپ کے خیال میں انسانیت کی خدمت کیوں ضروری ہے؟

ابتدائی زندگی اور پسِ منظر

عبدالستار ایدھی ایک ایسے انسان تھے جنہوں نے ساری زندگی غریبوں، بے سہارا لوگوں اور مصیبت زدگان کی خدمت میں گزار دی۔ وہ یکم جنوری ۱۹۲۸ء کو بھارت کی ریاست گجرات کے ایک قصبے بانٹوا میں پیدا ہوئے۔ ان کے بچپن کا زمانہ نہایت سادہ تھا، اور گھر کا ماحول مذہبی اور محنتی تھا۔ جب وہ صرف گیارہ برس کے تھے تو ان کی والدہ فالج کے باعث علیل ہو گئیں، جس نے ان کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

اپنی والدہ کی طویل علالت کے دوران عبدالستار ایدھی نے ان کی دیکھ بھال کا ذمہ اٹھایا۔ وہ روزانہ ان کو کھانا کھلاتے، کپڑے صاف ستھرے رکھتے اور ہر طرح کی ضرورت کا خیال رکھتے۔ یہی تجربہ بعد میں ان کی پوری زندگی کا مقصد بن گیا — دکھی اور بیمار انسانوں کی خدمت۔ تقسیمِ ہند کے بعد ۱۹۴۷ء میں ان کا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔

پیدائش
یکم جنوری ۱۹۲۸ء — بانٹوا، گجرات
وفات
۸ جولائی ۲۰۱۶ء — کراچی
شعبہ
سماجی و فلاحی خدمات
بانی
ایدھی فاؤنڈیشن — دنیا کی سب سے بڑی رضاکار ایمبولینس سروس

فلاحی کام کا آغاز

کراچی پہنچنے کے بعد عبدالستار ایدھی نے روزی کمانے کے لیے کپڑے کا کاروبار شروع کیا، مگر ان کا دل ہمیشہ غریبوں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کی طرف مائل رہتا تھا۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے اپنے بھائیوں کو کاروبار سونپ دیا اور خود فلاحی کاموں کی طرف متوجہ ہو گئے۔ انہوں نے ایک مفت ڈسپنسری کھولنے کا ارادہ کیا تاکہ غریب اور نادار مریضوں کو بلامعاوضہ علاج میسر آ سکے۔

یہی چھوٹا سا قدم آگے چل کر ایک عظیم تحریک کی بنیاد بنا۔ انہوں نے لوگوں سے چندہ جمع کر کے ایک پرانی ایمبولینس خریدی اور خود اسے چلا کر زخمیوں اور بیماروں کو ہسپتال پہنچانے لگے۔ آہستہ آہستہ ان کا کام پھیلتا گیا اور انہوں نے ایدھی ٹرسٹ کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد بلاتفریق رنگ، نسل، ذات اور مذہب ہر ضرورت مند کی مدد کرنا تھا۔

ایدھی فاؤنڈیشن — دنیا کی سب سے بڑی رضاکار تنظیم

عبدالستار ایدھی اور ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی نے مل کر اس ادارے کو دنیا کی سب سے بڑی نجی فلاحی تنظیم میں بدل دیا۔ آج ایدھی فاؤنڈیشن پاکستان بھر میں سینکڑوں ایمبولینس مراکز چلاتی ہے اور ہزاروں رضاکار اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔ یہ ادارہ یتیموں اور بے سہارا بچوں کے لیے پناہ گاہیں، ذہنی معذور افراد کے لیے بحالی مراکز اور بیواؤں و بزرگوں کے لیے دیکھ بھال کے مراکز بھی چلاتا ہے۔

اس تنظیم کا سب سے نمایاں کارنامہ اس کی ایمبولینس سروس ہے، جو ملک کے دور دراز علاقوں تک بھی پہنچ کر ہنگامی امداد فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ایدھی گھر بے گھر افراد، چھوڑے گئے بچوں اور بے سہارا خواتین کو پناہ دیتے ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن نے قدرتی آفات جیسے زلزلے اور سیلاب کے دوران بھی متاثرین کی بھرپور مدد کی۔

ایدھی فاؤنڈیشن کی خدمات رضاکار ایمبولینس سروس، مفت ہسپتال اور ڈسپنسریاں، یتیم خانے، بے سہارا بچوں کے لیے جھولا مراکز، ذہنی معذور افراد کے لیے بحالی خانے، اور قدرتی آفات میں ریلیف کا کام — یہ سب اس عظیم تنظیم کے دائرہ کار میں شامل ہیں۔

سادگی اور بے لوث خدمت

عبدالستار ایدھی کی شخصیت کی سب سے نمایاں خوبی ان کی غیر معمولی سادگی تھی۔ وہ ساری زندگی نہایت سادہ کپڑے پہنتے، دو جوڑے لباس میں گزارا کرتے اور ایدھی گھر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں رہائش رکھتے۔ انہوں نے کبھی اپنی تنظیم سے کوئی تنخواہ نہیں لی اور نہ ہی کسی ذاتی آسائش کی خواہش کی۔ ان کا ماننا تھا کہ خدمتِ خلق ہی حقیقی عبادت ہے۔

وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ انسانیت کا کوئی مذہب، رنگ یا نسل نہیں ہوتا — جو بھی مصیبت میں ہو، اس کی مدد کرنا ہر انسان کا فرض ہے۔ — عبدالستار ایدھی کے خیالات

عالمی پذیرائی اور اعزازات

عبدالستار ایدھی کی انسانیت کے لیے بے لوث خدمات کا اعتراف نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں کیا گیا۔ انہیں پاکستان کے سب سے بڑے شہری اعزاز نشانِ امتیاز سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں متعدد بین الاقوامی اداروں کی جانب سے امن اور انسانی خدمت کے ایوارڈز بھی ملے۔ کئی عالمی شخصیات اور تنظیموں نے ان کی خدمات کو دنیا بھر کے لیے ایک مثال قرار دیا۔

وفات اور یادگار

عبدالستار ایدھی ۸ جولائی ۲۰۱۶ء کو طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات پر پوری قوم نے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور حکومتِ پاکستان نے انہیں ریاستی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا۔ ان کے انتقال کے بعد بھی ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی اور خاندان نے ان کے مشن کو جاری رکھا اور آج بھی ایدھی فاؤنڈیشن لاکھوں لوگوں کی مدد کر رہی ہے۔

سبق اور پیغام

عبدالستار ایدھی کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی عظمت دولت یا شہرت میں نہیں بلکہ دوسروں کی خدمت اور ایثار میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی انسانیت کی بھلائی کے لیے وقف کر دی اور ثابت کیا کہ ایک عام آدمی بھی اپنے عزم اور محنت سے دنیا میں بہت بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنی استطاعت کے مطابق ضرورت مندوں کی مدد کریں اور انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔

TEC

عبدالستار ایدھی — ورک شیٹ

مضمون: اردو | جماعت ہفتم

🇵🇰
عبدالستار ایدھی — فرشتۂ رحمت
مضمون: اردو  |  جماعت: ہفتم  |  موضوع: عبدالستار ایدھی
کل نمبر: ۳۲ مدت: ۴۵ منٹ
نام طالب علم:
جماعت / سیکشن:
رول / GR نمبر:
تاریخ:
ہدایات: تمام سوالات لازمی ہیں۔  |  MCQ میں درست جواب کے گول خانے پر نشان لگائیں۔  |  مختصر جوابات ۲–۳ جملوں میں دیں۔  |  تفصیلی جواب واضح اور مربوط انداز میں لکھیں۔
🔑 جوابات کی کنجی — (صرف اساتذہ کے لیے)
حصہ الف
کثیر الانتخاب سوالات — صحیح جواب منتخب کریں
نمبر: ۱۲
۱ عبدالستار ایدھی کہاں پیدا ہوئے؟
اکراچی، پاکستان
ببانٹوا، گجرات (بھارت)
جلاہور، پنجاب
ددہلی، بھارت

۲ عبدالستار ایدھی کب پیدا ہوئے؟
ایکم جنوری ۱۹۲۸ء
ب۱۹۴۷ء
ج۱۹۳۵ء
د۱۹۵۰ء

۳ جب ایدھی صاحب کی والدہ بیمار ہوئیں تو ان کی عمر کتنی تھی؟
اپانچ برس
بگیارہ برس
جبیس برس
دپندرہ برس

۴ ایدھی کا خاندان پاکستان کب منتقل ہوا؟
ا۱۹۴۰ء
ب۱۹۴۷ء
ج۱۹۶۰ء
د۱۹۵۵ء

۵ عبدالستار ایدھی نے فلاحی کام کا آغاز کس طرح کیا؟
ااسکول بنا کر
بمفت ڈسپنسری کھول کر
جمسجد بنا کر
دسیاست میں شامل ہو کر

۶ ایدھی فاؤنڈیشن کس شعبے میں سب سے زیادہ مشہور ہے؟
اتعلیمی اداروں میں
بکھیلوں کے میدان میں
جرضاکار ایمبولینس سروس میں
دصنعت کاری میں

۷ عبدالستار ایدھی کی اہلیہ کا نام کیا تھا؟
افاطمہ ایدھی
ببلقیس ایدھی
جصفیہ ایدھی
دعائشہ ایدھی

۸ عبدالستار ایدھی کی شخصیت کی سب سے نمایاں خوبی کیا تھی؟
ادولت مندی
بسادگی اور بے لوث خدمت
جسیاسی طاقت
دشہرت کی چاہت

۹ انہیں پاکستان کا کون سا بڑا شہری اعزاز ملا؟
اہلالِ جرأت
بنشانِ امتیاز
جستارۂ بسالت
دنشانِ حیدر

۱۰ عبدالستار ایدھی کا انتقال کب ہوا؟
ا۱۴ اگست ۲۰۱۰ء
ب۸ جولائی ۲۰۱۶ء
ج۲۳ مارچ ۲۰۱۲ء
د۶ ستمبر ۲۰۱۸ء

۱۱ ایدھی فاؤنڈیشن کس قسم کے بچوں کو پناہ دیتی ہے؟
اصرف امیر گھرانوں کے بچوں کو
بیتیم اور بے سہارا بچوں کو
جصرف غیرملکی بچوں کو
دصرف اسکول جانے والے بچوں کو

۱۲ ایدھی صاحب کے نزدیک حقیقی عبادت کیا تھی؟
ادولت جمع کرنا
بخدمتِ خلق
جشہرت حاصل کرنا
دسیاست کرنا
حصہ ب
مختصر جوابی سوالات — دو تا تین جملوں میں جواب دیں
نمبر: ۱۲ (ہر سوال: ۳)
۱عبدالستار ایدھی نے فلاحی کاموں کی طرف کیسے رخ کیا؟
اپنی والدہ کی علالت کے دوران ان کی دیکھ بھال کرتے ہوئے ایدھی صاحب کے دل میں دکھی انسانوں کی خدمت کا جذبہ پیدا ہوا۔ کاروبار اپنے بھائیوں کے سپرد کر کے انہوں نے غریبوں کے لیے مفت ڈسپنسری کھولی اور یوں فلاحی کام کا آغاز کیا۔
۲ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروس کی کیا اہمیت ہے؟
یہ دنیا کی سب سے بڑی رضاکار ایمبولینس سروس ہے جو ملک کے دور دراز علاقوں تک پہنچ کر زخمیوں اور بیماروں کو فوری طبی امداد فراہم کرتی ہے۔ یہ بلاتفریق رنگ، نسل اور مذہب ہر ضرورت مند کی مدد کرتی ہے۔
۳عبدالستار ایدھی کی سادگی کا کیا مظاہرہ ملتا تھا؟
وہ نہایت سادہ کپڑے پہنتے، دو جوڑوں میں گزارا کرتے اور ایدھی گھر کے ایک چھوٹے کمرے میں رہتے تھے۔ انہوں نے کبھی اپنی تنظیم سے تنخواہ نہیں لی اور کسی ذاتی آسائش کی خواہش نہیں رکھی۔
۴ایدھی صاحب کی وفات پر قوم نے کس طرح اظہارِ افسوس کیا؟
۸ جولائی ۲۰۱۶ء کو ان کے انتقال پر پوری قوم نے گہرا دکھ محسوس کیا۔ حکومتِ پاکستان نے انہیں ریاستی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
حصہ ج
تفصیلی سوال — مکمل جواب لکھیں
نمبر: ۸
سوال عبدالستار ایدھی کی زندگی کا مختصر جائزہ لیں۔ ان کی ابتدائی زندگی، فلاحی کاموں کے آغاز، ایدھی فاؤنڈیشن کی خدمات اور ان کی سادگی کا احوال بیان کریں اور بتائیں کہ ہمیں ان کی زندگی سے کیا سبق ملتا ہے۔
ابتدائی زندگی: عبدالستار ایدھی یکم جنوری ۱۹۲۸ء کو بانٹوا، گجرات میں پیدا ہوئے۔ گیارہ برس کی عمر میں ان کی والدہ بیمار ہوئیں اور انہوں نے ان کی دیکھ بھال کی۔ ۱۹۴۷ء میں ان کا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا۔

فلاحی کاموں کا آغاز: انہوں نے مفت ڈسپنسری کھول کر غریب مریضوں کا علاج شروع کیا اور بعد میں ایک پرانی ایمبولینس خرید کر زخمیوں کی مدد کرنے لگے۔

ایدھی فاؤنڈیشن: اپنی اہلیہ بلقیس ایدھی کے ساتھ مل کر انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی رضاکار فلاحی تنظیم قائم کی، جو ایمبولینس سروس، یتیم خانے اور بحالی مراکز چلاتی ہے۔

سادگی: وہ ساری زندگی نہایت سادہ رہے، کبھی تنخواہ نہیں لی اور دو جوڑے کپڑوں میں گزارا کیا۔

سبق: ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی عظمت دولت میں نہیں بلکہ ایثار اور خدمتِ خلق میں ہے، اور ایک عام انسان بھی اپنے عزم سے بہت بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔
TEC

🔑 جوابات کی کنجی

اردو | جماعت ہفتم | عبدالستار ایدھی

صرف اساتذہ کے لیے
حصہ الف
MCQ — درست جوابات
۱ب — بانٹوا، گجرات
۲ا — یکم جنوری ۱۹۲۸ء
۳ب — گیارہ برس
۴ب — ۱۹۴۷ء
۵ب — مفت ڈسپنسری
۶ج — ایمبولینس سروس
۷ب — بلقیس ایدھی
۸ب — سادگی و بے لوث خدمت
۹ب — نشانِ امتیاز
۱۰ب — ۸ جولائی ۲۰۱۶ء
۱۱ب — یتیم و بے سہارا بچے
۱۲ب — خدمتِ خلق
حصہ ب
مختصر سوالات — نمونہ جوابات
سوال ۱: عبدالستار ایدھی نے فلاحی کاموں کی طرف کیسے رخ کیا؟
والدہ کی علالت کے دوران دیکھ بھال نے ان میں خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کیا۔ کاروبار بھائیوں کو سونپ کر انہوں نے مفت ڈسپنسری کھولی۔
سوال ۲: ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروس کی کیا اہمیت ہے؟
یہ دنیا کی سب سے بڑی رضاکار ایمبولینس سروس ہے جو دور دراز علاقوں تک ہنگامی طبی امداد بلاتفریق پہنچاتی ہے۔
سوال ۳: عبدالستار ایدھی کی سادگی کا کیا مظاہرہ ملتا تھا؟
سادہ لباس، دو جوڑے کپڑے، ایدھی گھر کے چھوٹے کمرے میں رہائش اور کبھی تنخواہ نہ لینا ان کی سادگی کی علامتیں تھیں۔
سوال ۴: ایدھی صاحب کی وفات پر قوم نے کس طرح اظہارِ افسوس کیا؟
پوری قوم نے دکھ کا اظہار کیا اور حکومت نے انہیں ریاستی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا۔
حصہ ج
تفصیلی سوال — نکاتِ جواب
سوال: عبدالستار ایدھی کی زندگی کا تفصیلی جائزہ لیں۔
ابتدائی زندگی: یکم جنوری ۱۹۲۸ء — بانٹوا، گجرات — والدہ کی علالت — ۱۹۴۷ء میں پاکستان منتقلی۔
فلاحی آغاز: مفت ڈسپنسری — ایمبولینس خرید کر خدمت — ایدھی ٹرسٹ کی بنیاد۔
ایدھی فاؤنڈیشن: بلقیس ایدھی کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی رضاکار تنظیم — ایمبولینس، یتیم خانے، بحالی مراکز۔
سادگی: سادہ لباس — بلا تنخواہ خدمت — ذاتی آسائش سے گریز۔
سبق: ایثار، خدمتِ خلق اور عاجزی کا عملی نمونہ۔