اردو | جماعت ہفتم
عبدالستار ایدھی ایک ایسے انسان تھے جنہوں نے ساری زندگی غریبوں، بے سہارا لوگوں اور مصیبت زدگان کی خدمت میں گزار دی۔ وہ یکم جنوری ۱۹۲۸ء کو بھارت کی ریاست گجرات کے ایک قصبے بانٹوا میں پیدا ہوئے۔ ان کے بچپن کا زمانہ نہایت سادہ تھا، اور گھر کا ماحول مذہبی اور محنتی تھا۔ جب وہ صرف گیارہ برس کے تھے تو ان کی والدہ فالج کے باعث علیل ہو گئیں، جس نے ان کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
اپنی والدہ کی طویل علالت کے دوران عبدالستار ایدھی نے ان کی دیکھ بھال کا ذمہ اٹھایا۔ وہ روزانہ ان کو کھانا کھلاتے، کپڑے صاف ستھرے رکھتے اور ہر طرح کی ضرورت کا خیال رکھتے۔ یہی تجربہ بعد میں ان کی پوری زندگی کا مقصد بن گیا — دکھی اور بیمار انسانوں کی خدمت۔ تقسیمِ ہند کے بعد ۱۹۴۷ء میں ان کا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔
کراچی پہنچنے کے بعد عبدالستار ایدھی نے روزی کمانے کے لیے کپڑے کا کاروبار شروع کیا، مگر ان کا دل ہمیشہ غریبوں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کی طرف مائل رہتا تھا۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے اپنے بھائیوں کو کاروبار سونپ دیا اور خود فلاحی کاموں کی طرف متوجہ ہو گئے۔ انہوں نے ایک مفت ڈسپنسری کھولنے کا ارادہ کیا تاکہ غریب اور نادار مریضوں کو بلامعاوضہ علاج میسر آ سکے۔
یہی چھوٹا سا قدم آگے چل کر ایک عظیم تحریک کی بنیاد بنا۔ انہوں نے لوگوں سے چندہ جمع کر کے ایک پرانی ایمبولینس خریدی اور خود اسے چلا کر زخمیوں اور بیماروں کو ہسپتال پہنچانے لگے۔ آہستہ آہستہ ان کا کام پھیلتا گیا اور انہوں نے ایدھی ٹرسٹ کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد بلاتفریق رنگ، نسل، ذات اور مذہب ہر ضرورت مند کی مدد کرنا تھا۔
عبدالستار ایدھی اور ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی نے مل کر اس ادارے کو دنیا کی سب سے بڑی نجی فلاحی تنظیم میں بدل دیا۔ آج ایدھی فاؤنڈیشن پاکستان بھر میں سینکڑوں ایمبولینس مراکز چلاتی ہے اور ہزاروں رضاکار اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔ یہ ادارہ یتیموں اور بے سہارا بچوں کے لیے پناہ گاہیں، ذہنی معذور افراد کے لیے بحالی مراکز اور بیواؤں و بزرگوں کے لیے دیکھ بھال کے مراکز بھی چلاتا ہے۔
اس تنظیم کا سب سے نمایاں کارنامہ اس کی ایمبولینس سروس ہے، جو ملک کے دور دراز علاقوں تک بھی پہنچ کر ہنگامی امداد فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ایدھی گھر بے گھر افراد، چھوڑے گئے بچوں اور بے سہارا خواتین کو پناہ دیتے ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن نے قدرتی آفات جیسے زلزلے اور سیلاب کے دوران بھی متاثرین کی بھرپور مدد کی۔
عبدالستار ایدھی کی شخصیت کی سب سے نمایاں خوبی ان کی غیر معمولی سادگی تھی۔ وہ ساری زندگی نہایت سادہ کپڑے پہنتے، دو جوڑے لباس میں گزارا کرتے اور ایدھی گھر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں رہائش رکھتے۔ انہوں نے کبھی اپنی تنظیم سے کوئی تنخواہ نہیں لی اور نہ ہی کسی ذاتی آسائش کی خواہش کی۔ ان کا ماننا تھا کہ خدمتِ خلق ہی حقیقی عبادت ہے۔
عبدالستار ایدھی کی انسانیت کے لیے بے لوث خدمات کا اعتراف نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں کیا گیا۔ انہیں پاکستان کے سب سے بڑے شہری اعزاز نشانِ امتیاز سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں متعدد بین الاقوامی اداروں کی جانب سے امن اور انسانی خدمت کے ایوارڈز بھی ملے۔ کئی عالمی شخصیات اور تنظیموں نے ان کی خدمات کو دنیا بھر کے لیے ایک مثال قرار دیا۔
عبدالستار ایدھی ۸ جولائی ۲۰۱۶ء کو طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات پر پوری قوم نے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور حکومتِ پاکستان نے انہیں ریاستی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا۔ ان کے انتقال کے بعد بھی ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی اور خاندان نے ان کے مشن کو جاری رکھا اور آج بھی ایدھی فاؤنڈیشن لاکھوں لوگوں کی مدد کر رہی ہے۔
عبدالستار ایدھی کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی عظمت دولت یا شہرت میں نہیں بلکہ دوسروں کی خدمت اور ایثار میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی انسانیت کی بھلائی کے لیے وقف کر دی اور ثابت کیا کہ ایک عام آدمی بھی اپنے عزم اور محنت سے دنیا میں بہت بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنی استطاعت کے مطابق ضرورت مندوں کی مدد کریں اور انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔
مضمون: اردو | جماعت ہفتم
اردو | جماعت ہفتم | عبدالستار ایدھی