اردو | جماعت ہفتم
علامہ محمد اقبال ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی فکر اور شاعری سے برصغیر کے مسلمانوں میں نئی روح پھونک دی۔ وہ ۹ نومبر ۱۸۷۷ء کو سیالکوٹ کے ایک علم دوست گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک نیک اور دیندار انسان تھے جنہوں نے بچپن ہی سے اقبال کی دینی اور اخلاقی تربیت پر خاص توجہ دی۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ کے ایک مقامی مدرسے سے حاصل کرنے کے بعد انہوں نے سکاچ مشن ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔
سیالکوٹ میں ہی انہوں نے مرے کالج سے میٹرک اور ایف اے کے امتحانات پاس کیے، جہاں ان کے استادوں نے ان کی غیر معمولی ذہانت کو بھانپ لیا تھا۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور کا رخ کیا، جہاں عربی اور فلسفے میں ان کی دلچسپی مزید پروان چڑھی۔ اپنی تعلیمی صلاحیتوں کے باعث انہوں نے یورپ کا سفر بھی کیا اور جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
علامہ اقبال نے اپنی شاعری کو محض الفاظ کی آرائش تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے قوم کی بیداری اور رہنمائی کا ذریعہ بنایا۔ انہوں نے اپنے اشعار میں مسلمانوں کو ان کی کھوئی ہوئی عظمت یاد دلائی اور انہیں غلامی کی ذہنی کیفیت سے نکل کر اپنی موجودہ حالت بدلنے کی ترغیب دی۔ ان کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مسلمان دوبارہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور خودی کو پہچان کر اپنا مستقبل خود تعمیر کریں۔
اقبال نے توحید، رسالت اور روشن خیالی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ انسانیت کو مادی اور روحانی ترقی کی طرف راغب کیا۔ ان کی شاعری میں نوجوانوں کے لیے خاص پیغام ملتا ہے کہ وہ بلند عزائم رکھیں اور اپنی کوششوں سے قوم کی تقدیر بدل دیں۔
علامہ اقبال کی شاعری میں شاہین کا ذکر بار بار آتا ہے، کیونکہ انہوں نے اسے مردِ مومن کی ایک مثالی علامت کے طور پر پیش کیا۔ شاہین بلندیوں پر اڑنے والا، تیز نگاہ رکھنے والا اور خود داری پسند پرندہ ہے جو دوسروں کے بنائے ہوئے گھونسلوں پر گزارا نہیں کرتا۔ وہ غلامی قبول نہیں کرتا اور اپنے بل بوتے پر شکار کرتا ہے۔
اسی طرح ایک سچا مومن بھی بلند ہمت، خود دار اور اپنے مقصد کے لیے انتھک محنت کرنے والا ہوتا ہے۔ وہ کسی کے سہارے پر زندگی نہیں گزارتا بلکہ اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کرتے ہوئے بلند مقاصد کی طرف پرواز کرتا ہے۔ شاہین کی طرح مردِ مومن کی نگاہ بھی دور اندیش ہوتی ہے اور وہ ہر مشکل کا مقابلہ خود اعتمادی سے کرتا ہے۔
علامہ اقبال نے نہ صرف شاعری بلکہ سیاسی میدان میں بھی برصغیر کے مسلمانوں کی رہنمائی کی۔ انہوں نے اپنے خطبات اور تحریروں میں مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ خطے کا تصور پیش کیا، جو بعد میں قیامِ پاکستان کی بنیاد بنا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں مفکرِ پاکستان اور حکیم الامت جیسے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔
علامہ محمد اقبال ۲۱ اپریل ۱۹۳۸ء کو لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کا مزار لاہور کی شاہی مسجد کے قریب واقع ہے، جہاں آج بھی ہزاروں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔ ان کی شاعری آج بھی تمام مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
علامہ اقبال کی زندگی اور شاعری ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک آزاد، غوروفکر کرنے والا اور بلند عزائم رکھنے والا انسان ہی حقیقی ترقی حاصل کر سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کے پیغام کو سمجھیں اور اپنے ایمان اور عمل کو اس کے مطابق ڈھال کر اپنی اور اپنی قوم کی ترقی میں کردار ادا کریں۔
مضمون: اردو | جماعت ہفتم
اردو | جماعت ہفتم | علامہ اقبال