اردو | جماعت ہفتم | صنف: حکایت
بعض اوقات سیدھے سادے لوگ دوسروں کے بہکاوے میں آ جاتے ہیں۔ عام طور پر آدمی جب کوئی بات سنتا ہے تو پہلے اسے سچ ہی مان لیتا ہے۔ کبھی کبھی چالاک لوگ شریف آدمی کی اس عادت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں، اور جب تک وہ جھوٹی بات ثابت نہ ہو جائے، برابر اپنا الو سیدھا کرتے رہتے ہیں۔ اسی لیے بعض پروپیگنڈا کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جھوٹ بار بار بولا جائے تو اسے سچ مان لیا جاتا ہے۔ جتنا بڑا سفید جھوٹ ہو، اتنا ہی لوگ زیادہ دھوکا کھاتے ہیں۔ پرانے زمانے کی کہانیاں اسی حقیقت کی بہترین مثال ہیں۔
ایک سیدھا سادا دیہاتی ایک بکری خرید کر اپنے کندھے پر لادے گاؤں کی طرف چلا جا رہا تھا۔ بکری بہت اچھی تھی۔ راستے میں تین شریر آدمیوں نے مل کر سازش کی کہ دیہاتی کو بے وقوف بنا کر اس کی بکری ہتھیا لی جائے۔
اب دیہاتی بھی چونکا کہ جو بھی ملتا ہے وہی یہی بات کہتا ہے، شاید کوئی بھاری چوک ہو گئی ہے۔ اس نے بکری کی رسی کھول دی۔ بکری میں میں کرتی ہوئی گھاس پر منہ مارنے چل دی۔ دیہاتی اپنی غلطی پر افسوس کرتا ہوا دور نکل گیا اور چالاک آدمیوں نے اس کی بکری ہتھیا لی۔
دوسری دلچسپ کہانی یہ ہے: ایک سیدھا سادا دیہاتی ویران راستے پر چلا جا رہا تھا۔ اس نے تھوڑی دیر پہلے ایک گدھا خریدا تھا، جس کی رسی اس نے گدھے کے گلے میں باندھ رکھی تھی۔ راستہ لمبا تھا اور دھوپ کی وجہ سے وہ زیادہ چوکنا نہیں رہا۔
تین آدمیوں کو شرارت سوجھی۔ ان میں سے ایک نے چپکے سے آ کر گدھے کی رسی کھول کر اپنے گلے میں ڈال لی اور دیہاتی کے پیچھے پیچھے چلنے لگا، جبکہ دوسرا آدمی گدھے کو لے کر چپکے سے نکل گیا۔ تھوڑی دیر بعد دیہاتی نے پیچھے دیکھا تو گدھا غائب تھا اور اس کی جگہ ایک آدمی رسی سے بندھا کھڑا تھا۔ دیہاتی نے حیرت سے پوچھا: "تم کون ہو اور میرا گدھا کہاں گیا؟" یہ آدمی بولا: "جناب میں ہی آپ کا گدھا ہوں۔"
اس آدمی نے بتایا کہ ایک پیر نے اس کی کسی غلطی پر ناراض ہو کر بددعا دی اور اسے ایک سال کے لیے گدھا بنا دیا تھا۔ آج اسی وقت وہ مدت ختم ہوئی اور وہ دوبارہ انسان بن گیا۔ اس نے دیہاتی سے التجا کی کہ اسے آزاد کر دے تاکہ وہ اپنے بیوی بچوں سے مل سکے، جو سال بھر سے اس کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ دیہاتی نے ترس کھا کر اسے چھوڑ دیا، اور وہ آدمی سیدھا اپنے ساتھی کے پاس گیا جس نے گدھا سنبھال رکھا تھا۔ دراصل اسی آدمی نے دیہاتی کو گدھا بنایا تھا، یعنی اسے بے وقوف بنایا تھا۔
یہ دونوں حکایتیں انسانی فطرت کی ایک دلچسپ حقیقت بیان کرتی ہیں: سیدھے سادے لوگ اکثر بار بار دہرائی گئی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں، چاہے وہ بات کتنی ہی جھوٹی کیوں نہ ہو۔ چالاک لوگ اس نفسیاتی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کہانیوں کا مرکزی سبق یہ ہے کہ ہر بات جو کان میں پڑے ضروری نہیں کہ سچ ہو، اس لیے ہمیں ہمیشہ عقل اور احتیاط سے کام لینا چاہیے اور کسی بات پر یقین کرنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ اسے کہنے والے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے۔
مضمون: اردو | جماعت ہفتم | TEC — The Education Consultancy
اردو | جماعت ہفتم | دو پرانی کہانیاں