TEC | دو پرانی کہانیاں — سبق و ورک شیٹ
TEC

🐐🐴 دو پرانی کہانیاں

اردو | جماعت ہفتم | صنف: حکایت

📜
موضوع: دو پرانی کہانیاں | بکری اور گدھے کی حکایتیں
سبق — اردو نثر
خاص الفاظ: بہکاوا پروپیگنڈا سازش ہتھیانا شرارت مہلت
🤔 سوچیے اور بتایے کیا آپ نے یا کسی عزیز نے کسی کی سنائی باتوں پر یقین کر کے نقصان اٹھایا ہو؟ ایسا کوئی واقعہ سنا ہو تو اپنے ساتھیوں کو سنائیے۔

سچ اور جھوٹ کی پہچان

بعض اوقات سیدھے سادے لوگ دوسروں کے بہکاوے میں آ جاتے ہیں۔ عام طور پر آدمی جب کوئی بات سنتا ہے تو پہلے اسے سچ ہی مان لیتا ہے۔ کبھی کبھی چالاک لوگ شریف آدمی کی اس عادت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں، اور جب تک وہ جھوٹی بات ثابت نہ ہو جائے، برابر اپنا الو سیدھا کرتے رہتے ہیں۔ اسی لیے بعض پروپیگنڈا کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جھوٹ بار بار بولا جائے تو اسے سچ مان لیا جاتا ہے۔ جتنا بڑا سفید جھوٹ ہو، اتنا ہی لوگ زیادہ دھوکا کھاتے ہیں۔ پرانے زمانے کی کہانیاں اسی حقیقت کی بہترین مثال ہیں۔

پہلی کہانی — بکری کی کہانی

ایک سیدھا سادا دیہاتی ایک بکری خرید کر اپنے کندھے پر لادے گاؤں کی طرف چلا جا رہا تھا۔ بکری بہت اچھی تھی۔ راستے میں تین شریر آدمیوں نے مل کر سازش کی کہ دیہاتی کو بے وقوف بنا کر اس کی بکری ہتھیا لی جائے۔

تین آدمیوں کا فریب پہلا آدمی پاس آ کر ساتھ ساتھ چلنے لگا اور بولا: "یہ کتا کہاں سے لائے؟" دیہاتی مسکرایا اور بولا: "یہ کتا نہیں بکری ہے۔" تھوڑی دیر بعد دوسرا آدمی ملا اور بولا: "اچھا کیا یہ کتا لے لیا، بکریوں کا رکھوالا بن جائے گا۔" دیہاتی حیران ہوا مگر پھر بولا: "بھائی، کتا نہیں بکری ہے۔" آگے چل کر تیسرا آدمی ملا اور اس نے کہا: "کوئی اچھا سا کتا لیتے، معمولی سا کتا کاہے کو لیا؟"

اب دیہاتی بھی چونکا کہ جو بھی ملتا ہے وہی یہی بات کہتا ہے، شاید کوئی بھاری چوک ہو گئی ہے۔ اس نے بکری کی رسی کھول دی۔ بکری میں میں کرتی ہوئی گھاس پر منہ مارنے چل دی۔ دیہاتی اپنی غلطی پر افسوس کرتا ہوا دور نکل گیا اور چالاک آدمیوں نے اس کی بکری ہتھیا لی۔

بکری کی کہانی
تین آدمیوں نے دیہاتی کو بکری کے متعلق دھوکا دیا
گدھے کی کہانی
گدھے کو انسان بننے کا فریب

دوسری کہانی — گدھے کی کہانی

دوسری دلچسپ کہانی یہ ہے: ایک سیدھا سادا دیہاتی ویران راستے پر چلا جا رہا تھا۔ اس نے تھوڑی دیر پہلے ایک گدھا خریدا تھا، جس کی رسی اس نے گدھے کے گلے میں باندھ رکھی تھی۔ راستہ لمبا تھا اور دھوپ کی وجہ سے وہ زیادہ چوکنا نہیں رہا۔

تین آدمیوں کو شرارت سوجھی۔ ان میں سے ایک نے چپکے سے آ کر گدھے کی رسی کھول کر اپنے گلے میں ڈال لی اور دیہاتی کے پیچھے پیچھے چلنے لگا، جبکہ دوسرا آدمی گدھے کو لے کر چپکے سے نکل گیا۔ تھوڑی دیر بعد دیہاتی نے پیچھے دیکھا تو گدھا غائب تھا اور اس کی جگہ ایک آدمی رسی سے بندھا کھڑا تھا۔ دیہاتی نے حیرت سے پوچھا: "تم کون ہو اور میرا گدھا کہاں گیا؟" یہ آدمی بولا: "جناب میں ہی آپ کا گدھا ہوں۔"

پہلی کہانی کا جانور
بکری
دوسری کہانی کا جانور
گدھا
دونوں میں فریب کاروں کی تعداد
تین تین آدمی
دونوں کا نتیجہ
دیہاتی کا جانور ہاتھ سے نکل جانا

اس آدمی نے بتایا کہ ایک پیر نے اس کی کسی غلطی پر ناراض ہو کر بددعا دی اور اسے ایک سال کے لیے گدھا بنا دیا تھا۔ آج اسی وقت وہ مدت ختم ہوئی اور وہ دوبارہ انسان بن گیا۔ اس نے دیہاتی سے التجا کی کہ اسے آزاد کر دے تاکہ وہ اپنے بیوی بچوں سے مل سکے، جو سال بھر سے اس کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ دیہاتی نے ترس کھا کر اسے چھوڑ دیا، اور وہ آدمی سیدھا اپنے ساتھی کے پاس گیا جس نے گدھا سنبھال رکھا تھا۔ دراصل اسی آدمی نے دیہاتی کو گدھا بنایا تھا، یعنی اسے بے وقوف بنایا تھا۔

پرانے زمانے کی ان کہانیوں کا مطلب یہی ہوتا تھا کہ آدمی ان سے عقل سیکھے اور احتیاط سے کام لے۔ ہر بات کو آنکھ بند کر کے نہ مان لے، بلکہ یہ بھی غور کرے کہ کون کیا کہہ رہا ہے اور کس غرض سے کہہ رہا ہے۔

خلاصہ اور پیغام

یہ دونوں حکایتیں انسانی فطرت کی ایک دلچسپ حقیقت بیان کرتی ہیں: سیدھے سادے لوگ اکثر بار بار دہرائی گئی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں، چاہے وہ بات کتنی ہی جھوٹی کیوں نہ ہو۔ چالاک لوگ اس نفسیاتی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کہانیوں کا مرکزی سبق یہ ہے کہ ہر بات جو کان میں پڑے ضروری نہیں کہ سچ ہو، اس لیے ہمیں ہمیشہ عقل اور احتیاط سے کام لینا چاہیے اور کسی بات پر یقین کرنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ اسے کہنے والے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے۔

TEC

دو پرانی کہانیاں — ورک شیٹ

مضمون: اردو | جماعت ہفتم | TEC — The Education Consultancy

📝
دو پرانی کہانیاں
مضمون: اردو  |  جماعت: ہفتم  |  باب: دو پرانی کہانیاں
کل نمبر: ۳۲مدت: ۴۵ منٹ
نام طالب علم:
جماعت / سیکشن:
رول / GR نمبر:
تاریخ:
ہدایات: تمام سوالات لازمی ہیں۔  |  MCQ میں درست جواب کے گول خانے پر ✓ لگائیں۔  |  مختصر جواب ۲–۳ جملوں میں دیں۔  |  تفصیلی جواب واضح اور مربوط لکھیں۔
🔑 جوابات کی کنجی — (صرف اساتذہ کے لیے)
حصہ الف
کثیر الانتخاب سوالات — صحیح جواب منتخب کریں
نمبر: ۱۲
۱ متن کے مطابق عام طور پر آدمی کوئی بات سنتا ہے تو پہلے کیا کرتا ہے؟
افوراً رد کر دیتا ہے
باسے سچ مان لیتا ہے
جنظرانداز کر دیتا ہے
دتحقیق کرتا ہے

۲ بعض پروپیگنڈا کرنے والوں کا کیا خیال ہوتا ہے؟
اسچ ہمیشہ ظاہر ہو جاتا ہے
بجھوٹ بار بار بولا جائے تو سچ مان لیا جاتا ہے
ججھوٹ کبھی نہیں چھپتا
دسچ بولنا نقصان دہ ہے

۳ پہلی کہانی میں دیہاتی کیا خرید کر لے جا رہا تھا؟
اگائے
ببکری
جبھیڑ
دمرغی

۴ پہلی کہانی میں کتنے شریر آدمیوں نے سازش کی؟
ادو
بتین
جچار
دپانچ

۵ پہلے آدمی نے دیہاتی سے کیا پوچھا؟
ایہ بکری کہاں سے لائے
بیہ کتا کہاں سے لائے
جیہ گائے کہاں سے لائے
دیہ کتنے کا لیا

۶ تین آدمیوں کی باتیں سن کر دیہاتی نے کیا کیا؟
اانہیں ڈانٹا
ببکری کی رسی کھول دی
جبھاگ گیا
دبکری چھپا دی

۷ دوسری کہانی میں دیہاتی کیا خرید کر لے جا رہا تھا؟
اگھوڑا
بگدھا
جاونٹ
دبیل

۸ دیہاتی زیادہ چوکنا کیوں نہیں رہا؟
اوہ بہرا تھا
براستہ لمبا تھا اور دھوپ کی وجہ سے
جوہ نیند میں تھا
دوہ بیمار تھا

۹ دیہاتی نے پیچھے دیکھا تو کیا پایا؟
اگدھا اب بھی وہیں تھا
بگدھا غائب تھا اور اس کی جگہ ایک آدمی رسی سے بندھا تھا
جکچھ نہیں بدلا تھا
دگدھا بھاگ گیا تھا

۱۰ آدمی نے اپنی کہانی میں کیا بتایا؟
اوہ ہمیشہ سے انسان تھا
بایک پیر نے بددعا دے کر اسے سال بھر کے لیے گدھا بنا دیا تھا
جوہ جادوگر تھا
دوہ راستہ بھول گیا تھا

۱۱ دیہاتی نے آدمی کے ساتھ کیا کیا؟
ااسے پکڑ کر رکھا
بترس کھا کر اسے چھوڑ دیا
جاسے مار دیا
داسے پولیس کے حوالے کیا

۱۲ دونوں کہانیوں کا مرکزی خیال کیا ہے؟
اجانوروں سے محبت کرنی چاہیے
بسیدھے سادے لوگ چالاک لوگوں کے بہکاوے میں آ کر نقصان اٹھاتے ہیں
جسفر نہیں کرنا چاہیے
داجنبیوں سے دوستی کرنی چاہیے
حصہ ب
مختصر جوابی سوالات — دو تا تین جملوں میں جواب دیں
نمبر: ۱۲ (ہر سوال: ۳)
۱پرانی کہانیوں کا مقصد کیا ہوتا تھا؟
پرانی کہانیوں کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ آدمی ان سے عقل سیکھے اور احتیاط سے کام لے، ہر بات کو آنکھ بند کر کے نہ مانے اور غور کرے کہ کون کیا کہہ رہا ہے۔
۲دوسرے اور تیسرے آدمی نے دیہاتی سے پہلی کہانی میں کیا کہا؟
دوسرے آدمی نے کہا کہ اچھا کیا کتا لے لیا، یہ بکریوں کا رکھوالا بنے گا۔ تیسرے آدمی نے کہا کہ کوئی اچھا سا کتا لیتے، معمولی سا کیوں لیا۔
۳دوسری کہانی میں پہلے اور دوسرے آدمی نے کیا کیا؟
پہلے آدمی نے چپکے سے گدھے کی رسی کھول کر اپنے گلے میں ڈال لی، جبکہ دوسرا آدمی گدھے کو لے کر چپکے سے نکل گیا۔
۴حقیقت میں دوسری کہانی میں دیہاتی کے ساتھ کیا ہوا؟
تین آدمیوں نے مل کر دیہاتی کو دھوکا دیا۔ ایک آدمی نے خود کو انسان بنا گدھا ظاہر کیا اور آزادی کی درخواست کر کے چالاکی سے نکل گیا۔
حصہ ج
تفصیلی سوال — مکمل جواب لکھیں
نمبر: ۸
سوال دونوں کہانیوں کا خلاصہ اپنے الفاظ میں بیان کریں اور بتائیں کہ ان سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے۔
بکری کی کہانی: تین آدمیوں نے دیہاتی کو یہ باور کروایا کہ اس کی بکری دراصل کتا ہے۔ بار بار ایک ہی بات سن کر دیہاتی نے یقین کر لیا اور بکری چھوڑ دی۔

گدھے کی کہانی: تین آدمیوں نے گدھا چرا کر اس کی جگہ ایک آدمی کو کھڑا کر دیا جس نے خود کو "بددعا سے گدھا بنا انسان" ظاہر کیا۔ دیہاتی نے ترس کھا کر اسے چھوڑ دیا۔

سبق: ہر بات پر آنکھ بند کر کے یقین نہیں کرنا چاہیے۔ بات کرنے والے کی نیت اور مقصد پر غور کرنا چاہیے، اور عقل و احتیاط سے کام لینا چاہیے۔
TEC

🔑 جوابات کی کنجی

اردو | جماعت ہفتم | دو پرانی کہانیاں

صرف اساتذہ کے لیے
حصہ الف
MCQ — درست جوابات
۱ب — سچ مان لیتا ہے
۲ب — جھوٹ بار بار
۳ب — بکری
۴ب — تین
۵ب — کتا کہاں سے لائے
۶ب — رسی کھول دی
۷ب — گدھا
۸ب — لمبا راستہ/دھوپ
۹ب — گدھا غائب
۱۰ب — بددعا سے گدھا
۱۱ب — چھوڑ دیا
۱۲ب — بہکاوا و نقصان
حصہ ب
مختصر سوالات — نمونہ جوابات
سوال ۱: پرانی کہانیوں کا مقصد؟
عقل سکھانا اور احتیاط سکھانا۔
سوال ۲: دوسرے/تیسرے آدمی نے کیا کہا؟
کتا رکھوالا بنے گا؛ اچھا کتا لیتے۔
سوال ۳: پہلے/دوسرے آدمی نے کیا کیا؟
رسی گلے میں ڈالی؛ گدھا لے گیا۔
سوال ۴: دیہاتی کے ساتھ حقیقت میں کیا ہوا؟
فریب سے گدھا چھینا گیا۔
حصہ ج
تفصیلی سوال — نکاتِ جواب
سوال: دونوں کہانیوں کا خلاصہ اور سبق۔
بکری: بار بار جھوٹ سے یقین دلانا۔
گدھا: فریب سے چوری۔
سبق: آنکھ بند کر کے یقین نہ کریں۔