اردو | جماعت ہفتم
ہم اپنی جماعت میں بیٹھے معمول کے مطابق پڑھ رہے تھے۔ احسن اپنی انگلیاں کتاب پر پھیرتا اور بولتا جا رہا تھا، اور راوی (طارق) جلدی جلدی لکھتا جا رہا تھا۔ اچانک جماعت میں کچھ چہل سی ہوئی — کچھ اجنبی بچوں کی آوازیں سنائی دیں۔ ان کے ساتھ کچھ بڑوں کی آوازیں بھی تھیں جو بچوں کو آہستہ اور خاموش رہنے کی تلقین کر رہے تھے۔ یہ نئے آنے والے بچے جماعت کے قریب آ گئے اور حیرانی سے سب کچھ دیکھنے لگے۔
ان بچوں نے تعلیمی دورے پر آنے کے بعد سوالات کرنے شروع کیے کہ "آپ کے پاس یہ کیا ہے؟" آخر جماعت کے بچوں نے اپنا کام روک کر انہیں اپنی تختیاں اور کارڈ دکھائے۔ اس عمل میں کارڈ کو تختی میں رکھ کر لوہے کے پن سے کارڈ میں سوراخ کیے جاتے ہیں۔ کارڈ کی دوسری جانب یہ سوراخ اُبھر جاتے ہیں۔ پھر تختی سے کارڈ نکال کر ان اُبھرے ہوئے حروف پر انگلیاں پھیر کر پڑھا جاتا ہے۔
یہ کہانی کراچی کے نابینا بچوں کے ایک اسکول کی ہے۔ ان کی مس تہمینہ، خود نابینا ہونے کے باوجود، بہت محنت اور خلوص کے ساتھ نابینا طلبہ کی تعلیم و تربیت کر رہی تھیں۔
پوری دنیا میں سفید چھڑی کو نابینا افراد کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ نابینا لوگ اپنے کام خوبی سے انجام دے لیتے ہیں۔ انہیں راستے یاد رہتے ہیں، وہ کھانا بھی پکا لیتے ہیں، لکھتے اور پڑھتے بھی ہیں، اور ٹائپ کر کے کمپیوٹر پر بھی کام کرتے ہیں۔ وہ لکڑی کی خوب صورت اشیا بنانا، کرسیاں اور فرنیچر بنانا، اور سائیکل کی مرمت کرنا جیسے مختلف ہنر بھی سیکھتے ہیں۔ وہ عام لوگوں کی طرح بہت سے پیشے اختیار کرتے ہیں، اور "بریل" کی مدد سے وہ پڑھ اور لکھ سکتے ہیں۔
فرانس میں ایک نابینا لڑکا رہا کرتا تھا جس کا نام لوئی بریل تھا۔ اس کے والدین نے اسے نابینا بچوں کے اسکول میں داخل کروا دیا، جہاں بریل اور اس کے دوسرے نابینا ساتھیوں کو پڑھائی میں سخت مشکلات کا سامنا تھا۔ بریل نے ان مشکلات پر قابو پانے کے لیے بہت سوچ بچار کی، اور صرف پندرہ سال کی عمر میں نابینا افراد کے لیے تحریر کا ایک ایسا نظام ایجاد کیا جس میں حروف اُبھارے جاتے ہیں اور نابینا لوگ ان حروف پر انگلیاں پھیر کر پڑھ سکتے ہیں۔
بریل کی اس ایجاد سے دنیا بھر کے نابینا افراد تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انسانوں کی خدمت کے اس عظیم کارنامے کی وجہ سے نام کو ہمیشہ بریل کے نام سے یاد رکھا جائے گا۔
خصوصی افراد میں نہ صرف نابینا افراد شامل ہیں بلکہ ہر وہ انسان شامل ہے جس میں کوئی جسمانی یا ذہنی کمی ہو، بشمول ایسے افراد جن کی ذہنی صلاحیت ان کی عمر سے کم ہے۔ ایک معروف اسکول میں ایک شخص بحیثیت لائبریرین اپنی خدمات انجام دے رہا ہے جس نے اپنی جسمانی کمزوری کے باوجود اپنی تعلیم مکمل کی۔
اللہ تعالیٰ کی بنائی یہ خوب صورت دنیا آپس کی محبت اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے سے مزید حسین ہو جاتی ہے۔ کسی کی مدد کے لیے بڑھا ہوا ہاتھ اردگرد موجود تمام لوگوں کو جینے کا حوصلہ اور امید دیتا ہے۔ یہ سبق ہمیں سکھاتا ہے کہ نابینا اور خصوصی افراد بھی ہمت اور محنت سے ہر میدان میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، اور ہمیں ان کی صلاحیتوں کا احترام کرتے ہوئے ان کی مدد اور حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
مضمون: اردو | جماعت ہفتم | TEC — The Education Consultancy
اردو | جماعت ہفتم | ہماری دنیا / بریل حروف تہجی