اردو | جماعت ہفتم | TEC — The Education Consultancy
حوالدار لالک جان یکم اپریل ۱۹۶۷ء کو گلگت بلتستان کے ضلع غذر کی وادی یاسین کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام نیات جان تھا جو ایک غریب مگر باہمت کسان تھے۔ لالک جان نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں ہی میں حاصل کی اور مڈل تک تعلیم مکمل کی۔ وادی یاسین کو ''شہیدوں کی وادی'' بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں کے بیٹوں نے پاکستان کی حفاظت میں اپنی جانیں نثار کی ہیں۔
لالک جان بچپن سے ہی بہادر، نڈر اور جسمانی طور پر چست و توانا تھے۔ پہاڑی علاقے میں پرورش پانے کی وجہ سے انہوں نے کم عمری سے ہی مشکل حالات کا مقابلہ کرنا سیکھا تھا۔ انہیں اپنے وطن اور فوج سے بے پناہ محبت تھی، اسی لیے انہوں نے ۱۰ دسمبر ۱۹۸۴ء کو پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی۔
فوج میں شامل ہونے کے بعد لالک جان نے نارتھرن لائٹ انفنٹری (NLI) رجمنٹ کے تربیتی مرکز بنجی میں سخت تربیت حاصل کی۔ اپنی پیشہ ورانہ مہارت، جسمانی چستی اور لگن کی وجہ سے انہوں نے رجمنٹ کی کمانڈو ٹیم کو پہلی پوزیشن پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بعد میں انہیں NLI رجمنٹ بنجی میں ہتھیاروں کی تربیت دینے والے معلّم کے طور پر تعینات کیا گیا۔
لالک جان کی فوجی زندگی میں ایمانداری، محنت اور قربانی کا جذبہ نمایاں رہا۔ وہ اپنے ساتھیوں میں بے حد مقبول تھے اور جوانوں کے لیے ایک مثالی فوجی کا نمونہ تھے۔ ان کا حوصلہ اور ولولہ ہمیشہ بلند رہتا تھا اور وہ ہر مشکل حالت میں اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھاتے تھے۔
۱۹۹۹ء میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کارگل کی سرحد پر کشیدگی بڑھی تو لالک جان نے رضاکارانہ طور پر اگلے محاذ پر جانے کی درخواست کی۔ ٹائیگر ہل کارگل کی سب سے خطرناک اور اہم پوزیشنوں میں سے ایک تھا۔ اس چوٹی پر ۱۲ NLI کے صرف ۱۱ جوانوں نے پوزیشن سنبھالی ہوئی تھی جن میں لالک جان دوسرے نمبر کے کمانڈر تھے۔
دشمن نے مئی ۱۹۹۹ء سے جولائی ۱۹۹۹ء تک ٹائیگر ہل پر بار بار حملے کیے مگر لالک جان اور ان کے ساتھیوں نے ہر حملے کو پسپا کر دیا۔ جب ۶ جولائی ۱۹۹۹ء کو دشمن نے بھاری گولہ باری کے ساتھ شدید حملہ کیا تو ۱۱ میں سے ۷ جوان شہید ہو گئے۔ صرف لالک جان اور تین ساتھی باقی بچے۔ لالک جان نے باقی تین جوانوں کو مختلف جگہوں پر تعینات کیا اور دشمن کو یہ تاثر دیا کہ وہاں بہت بڑی تعداد میں فوج موجود ہے۔
۷ جولائی ۱۹۹۹ء کو دشمن کی بھاری گولہ باری میں لالک جان سخت زخمی ہو گئے۔ ساتھیوں نے انہیں پیچھے جانے کی التجا کی لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ زخمی حال میں بھی وہ لڑتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے شہادت قبول کر لی۔ روایت ہے کہ جانے سے پہلے انہوں نے اپنی والدہ سے دعا مانگی تھی کہ ''اماں! دعا کریں کہ میں شہید ہو جاؤں''۔ اللہ نے ان کی یہ آرزو پوری کر دی۔
جب لالک جان کے والد کو ان کی شہادت کی خبر ملی تو انہوں نے آنسو پونچھے اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ ''میرے بیٹے نے اپنا خون پاکستان کے مقدس باغ کو سینچنے کے لیے دیا۔'' ان کی بیٹی امنہ لالک جان نے کہا کہ ''مجھے فخر ہے کہ میں نشانِ حیدر پانے والے کی بیٹی ہوں۔'' یہ الفاظ پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔
لالک جان کی بے مثال شجاعت اور قربانی کے اعتراف میں پاکستان حکومت نے انہیں پاکستان کا سب سے بڑا اور اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ''نشانِ حیدر'' مرحومانہ طور پر عطا کیا۔ وہ اس اعزاز کو پانے والے گیارہویں اور سب سے آخری فوجی ہیں۔ وہ گلگت بلتستان سے نشانِ حیدر پانے والے پہلے سپاہی تھے۔
لالک جان کی شہادت کے بعد وادی یاسین میں ان کی یادگار قائم کی گئی۔ ہر سال ۷ جولائی کو ان کی شہادت کی برسی قومی سطح پر منائی جاتی ہے جس میں فوجی اور سویلین قیادت ان کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ مساجد میں قرآن خوانی اور دعاؤں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ پاکستان آرمی، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین اور سروسز چیفس ہر سال ان کی یاد میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
لالک جان کی وادی غذر کو ''شہیدوں کی وادی'' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس وادی میں گنتی بے شمار پرچم شہداء کے مزاروں پر لہراتے ہیں جو اس خطے کے بہادر بیٹوں کی قربانیوں کی یاد دلاتے ہیں۔
لالک جان شہید کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی محبت وہ ہوتی ہے جس میں انسان اپنی جان بھی دے دیتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف دشمن کو شکست دی بلکہ پوری قوم کو یہ بتا دیا کہ پاکستانی سپاہی اپنی آخری سانس تک وطن کی حفاظت کرتا ہے۔ ان کی شہادت رہتی دنیا تک پاکستانی قوم اور فوج کے لیے ایک چراغِ راہ کا کام کرتی رہے گی۔
پاکستان کے صدر نے ان کی برسی پر کہا: ''لالک جان شہید نے سخت زخمی ہونے کے باوجود دشمن کے حملوں کو پسپا کیا اور وطن کی حفاظت میں اپنی جان دے دی۔ ان کی یہ قربانی آئندہ نسلوں کے لیے ہمت و استقامت کی چمکتی مثال ہے۔''
مضمون: اردو | جماعت ہفتم | TEC — The Education Consultancy
اردو | جماعت ہفتم | لالک جان شہید