اردو | جماعت ہفتم
ماحولیات اس علم کا نام ہے جس میں زمین پر موجود ہوا، پانی، مٹی، پودوں اور جانداروں کے باہمی تعلق اور توازن کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ ہمارا ماحول دراصل ایک ایسا نظام ہے جس میں ہر چیز ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر اس نظام کے کسی ایک حصے میں خرابی پیدا ہو جائے تو اس کا اثر باقی تمام نظام پر پڑتا ہے۔ انسان، حیوانات اور نباتات سب اسی ماحولیاتی نظام کا حصہ ہیں اور ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے صنعتی ترقی، آبادی میں اضافے اور وسائل کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے ہمارا ماحول شدید دباؤ کا شکار ہے۔ جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی، پانی کی آلودگی اور کچرے کے ڈھیر آج دنیا بھر میں سنگین مسائل بن چکے ہیں۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ضروری ہے۔
سمندری ساحل قدرت کے حسین ترین مناظر میں سے ایک ہیں، جہاں صاف پانی، تازہ ہوا اور پرندوں کی چہچہاہٹ انسان کو سکون فراہم کرتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے آج کل بہت سے ساحلی علاقے پلاسٹک کے کچرے اور دیگر فضلے سے آلودہ ہو چکے ہیں۔ سیاحوں اور مقامی آبادی کی غفلت کی وجہ سے ساحلوں پر بکھرا ہوا کچرا نہ صرف منظر کو خراب کرتا ہے بلکہ سمندری حیات کے لیے بھی خطرہ بنتا ہے۔
سمندری جانور اکثر پلاسٹک کے ٹکڑوں کو خوراک سمجھ کر نگل لیتے ہیں جس سے ان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جب پلاسٹک کا کچرا سمندر میں جمع ہوتا رہتا ہے تو یہ سمندری ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ساحلوں اور آبی ذخائر کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔
ہمارے روزمرہ کے کچرے کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: قابلِ تحلیل (Biodegradable) اور ناقابلِ تحلیل (Non-Biodegradable)۔ سبزیوں کے چھلکے، کاغذ اور لکڑی جیسی اشیاء قدرتی طور پر گل جاتی ہیں، جبکہ پلاسٹک، شیشہ اور دھات کی اشیاء کو گلنے میں سینکڑوں سال لگ سکتے ہیں۔ اسی لیے ماہرین کچرے کو الگ الگ کرنے اور ری سائیکلنگ کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔
ری سائیکلنگ کا مطلب ہے استعمال شدہ اشیاء کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانا، تاکہ نئے وسائل کا استعمال کم ہو اور کچرے کی مقدار بھی گھٹے۔ مثال کے طور پر پرانے کاغذ سے نیا کاغذ بنایا جا سکتا ہے، اور پلاسٹک کی بوتلوں سے نئی مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں۔ اگر ہم سب اپنے گھروں اور اسکولوں میں کچرے کو الگ کرنے کی عادت اپنا لیں تو ماحول پر اس کا مثبت اثر پڑے گا۔
درخت ہمارے ماحول کے لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ وہ ہوا کو صاف رکھنے میں مدد دیتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ درخت زمین کو کٹاؤ سے بچاتے ہیں اور بے شمار پرندوں اور جانوروں کو پناہ فراہم کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی وجہ سے بہت سے علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔
اسی لیے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر، اسکول یا محلے میں زیادہ سے زیادہ درخت لگائے۔ شجرکاری مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا اور درختوں کی دیکھ بھال کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
ماحولیات کے موضوع پر یہ سبق ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ماحول کی حفاظت کسی ایک شخص یا ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کا فرض ہے۔ اگر ہم آج اپنے ماحول کا خیال نہیں رکھیں گے تو آنے والی نسلوں کو صاف پانی، تازہ ہوا اور صحت مند زمین میسر نہیں آئے گی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم چھوٹے چھوٹے اقدامات کے ذریعے اپنے ماحول کو صاف ستھرا اور محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
مضمون: اردو | جماعت ہفتم
اردو | جماعت ہفتم | ماحولیات