📖

یوم آزادی

اردو نصاب | جماعت ہفتم | باب نمبر ۲

خاص الفاظ: وِیدنی ساہ باندھنا جم غفیر اشتیاق ماہیّن ہدیّہ
🤔 سوچیے اور بتایے کسی بھی قوم کے لیے آزادی کیوں اہم ہوتی ہے؟  |  آپ یوم آزادی کس طرح مناتے ہیں؟ کوئی دو باتیں بتایے۔

گورنمنٹ ہائی اسکول میں اِس سال بھی یوم آزادی کی تقریب بہت جوش و خروش اور جذبے سے منائی گئی۔ اس سلسلے میں تیاریوں کا آغاز ۹ اگست سے ہی ہو گیا تھا۔ طلبہ نے ملّی نغوں، تقاریر، ترانوں، ڈراموں اور معلوماتی مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ معلّمین اور مددگار عملے نے ۱۳ اگست کو طلبہ کو اسکول میں یونی فارم پہنے جشن آزادی کے تھیم کے ساتھ سجایا۔

۱۳ اگست کی صبح تمام بچے ۶ بجے کر صف سے پاک سترے ہوئے۔ دیوانی ہال میں جوش و خروش دیدنی تھی۔ بچوں کو اسمبلی اسکول کے اسمبلی ہال میں نہایت خصوصی مہمان کے ساتھ تھامے استقبال کیا۔ بچوں نے نہایت ادب و احترام سے ان کا استقبال کیا۔

پروگرام کا باقاعدہ آغاز سورۃ الرحمٰن کی تلاوت سے ہوا جو جماعت دہم کے طالب علم حافظ سلمان علی نے بہت خوش الحانی سے کی۔ اس کے ساتھ ہی بچوں نے پرچم کشائی کی اور ملّی ترانہ ملی جوش و جذبے سے گایا۔ میزبان جماعت سے احمد جمال نے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کرواتے ہوئے مہمانِ خصوصی محترم سعید احمد صدیقی صاحب کا تعارف کروایا۔

احمد جمال نے بتایا کہ سعید احمد صدیقی صاحب ملک کے اخبارات و رسائل میں مشہور کالم نگار ہیں اور ان کی تحریریں پہلی صف کے اخبارات میں شائع ہوتی ہیں۔ آج وہ بچوں کو قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ سے اپنی ملاقات کا احوال سنائیں گے۔ اس کے بعد مدرسِ اعلیٰ نے بچوں کو پُرسکون اور منظم رہنے کا اشارہ دیتے ہوئے سعید احمد صدیقی صاحب کو آواز کے ساتھ ملا کر ساتھ دیا۔

سعید احمد صدیقی صاحب نے بتایا کہ وہ اُن دنوں علی گڑھ یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔ قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ اپنی آواز گرتی بھی گری تو آواز آجاتی کہ اگر سنوٹی بھی گری تو آواز آئے۔ سعید احمد صاحب نے درخواست کی کہ وہ قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات کرنا چاہتے تھے۔ سعید احمد صاحب نے بچوں کے سلام کے بعد گفت گو کا آغاز کیا۔ قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ کے ان دنوں وہ علی گڑھ یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔ قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ آنے کی خبر پر سب لڑکے خوشی سے بے تاب ہو گئے اور اسٹیشن پر ان کا استقبال کرنے کے لیے دوڑ پڑے۔

قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ جیسے ہی اپنے گھوڑا گاڑی میں تشریف لائے تو لڑکوں نے نہایت احتیاط سے گھوڑا گاڑی کو چلایا اور یونیورسٹی تک لے گئے۔ سعید احمد صاحب جب یہ تذکرہ کر رہے تھے تو اُن کے چہرے پر آج بھی خوشی کی وہی تاثرات دیکھی جاتی تھیں۔ بعد ازاں اُنہوں نے قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ کی تقریر کا بالکل الجھے ہوئے انداز میں سنایا۔

طلبہ کے اصرار پر کچھ مزید واقعات سنانے کے بعد سعید احمد صاحب نے بچوں کا پروگرام دیکھنے کا اشتیاق ظاہر کیا۔ پروگرام کے آغاز کے بعد آسمبلی ہال میں لگائی گئی بڑی اسکرین پر پاکستان کے بارے میں ایک دستاویزی فلم ''پاکستان کے رنگ'' کے نام سے دکھائی گئی۔ مختصر دورانیے کی اِس فلم کی ڈرون کیمروں سے عکاسی کی گئی تھی۔

اِس فلم میں پاکستان کے سر بلند پہاڑوں کے سربلند صحرائی اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں کو خوب صورتی سے فلمایا گیا تھا۔ ہمالیہ کے اونچے پہاڑوں کے قریقرم سلسلے میں نو اور قرار قرام کے پہاڑوں میں دل نشین مناظر دیکھنے کی شان رکھتی تھی۔ فلم میں سیف الملوک، ملوک، مہودنڈ، بنجوسہ، شنگریلا، بتہ، مُنچھر، اور بہت سی جھیلوں کے بہت دل نشین مناظر دکھائے۔ ہر طرف بکھرے رنگ، لہلہاتے کھیت، بیلوں اور ٹریکٹروں سے جُتے کھیت، چٹوں پر سُوکھتے میوے، ہاتھ سے قالین بننے کی بہار، بیل گاڑیوں، اونٹوں اور گدھا گاڑیوں کی دوڑ کے مقابلے، کہیں کرکٹ، کہیں کبڈی، کہیں پہاڑوں پر پولو کھیلتے لوگ سب بعد دیگرے نظر سے گزرتے رہے۔

پاک فضائیہ کے شاہینوں کو لڑاکا طیاروں میں بیٹھے دیکھنا، سمندر پر مامور بحری جہازوں کو نوجوانوں کو بحری جہازوں پر سینہ تانے کھڑا دیکھنا اور بری فوج کے جوانوں کو صحراؤں میں جنگی مشقیں کرتے دیکھنا طلبہ کے جوش اور ولولے میں اضافے کا سبب بنا۔ فلم کے اختتام پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی معلمہ نے طلبہ کو ہدایت دی کہ وہ اپنے وطن کی دستاویزی فلمیں بنانے کی کوشش کریں۔ نم اور درہم کے طلبہ کو اپنے شہر کی اہم عمارات اور تفریحی مقامات کی دستاویزی فلم بنانے کا کام دیا گیا۔

جماعت نہم اور ہشتم کے طلبہ نے ملی جذبے سے ''یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے'' آواز میں آواز ملاتے ہوئے پرچم لہرا کر ساتھ دیا۔ جماعت نم اور ہشتم کے طلبہ نے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی نظم ''یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے'' پر اخلاقی انداز میں ٹیبلو پیش کیا۔

بعد ازاں جماعت ہفتم، ششم اور پنجم کے طلبہ کے مابین معلومات کا مقابلہ ہوا۔ ماشاء اللہ بچوں کے پاس پاکستان کے بارے میں معلومات کا ذخیرہ کافی تھا۔ جماعت پنجم سے جماعت پنجم کے طلبہ پنجم سے جماعت ششم کے طلبہ پنجم کے طلبہ جیت گئے۔ جماعت پنجم کے طلبہ نے قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ اور فرقان نے اپنی ادا کاری سے سب کے دل جیت لیے۔

جماعت ششم کے طلبہ نے ڈراما ''آزادی کے محافظ'' کے محافظ پیش کیا۔ خوب صورت انداز پیش کش اور دل جذبات نے تمام بچوں کے دلوں پر اثر کیا۔ جماعت پنجم چہارم اور سوم کے طلبہ نے پاکستان میں بسنے والی مختلف اقوام کی ثقافت اور روایات کو ایک پریڈی کی صورت میں پیش کیا۔ اِس دوران سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور کشمیر سے متعلق یادگاری تصانیف اور اشیا مہمانِ خصوصی کو ہدیّہ دی گئیں۔

مختلف جماعتوں کے طلبہ کے درمیان مختصر تقریری مقابلے کے بعد آج پروگرام کو اختتام کو پہنچا۔ اختتامی کلمات نے چہروں کے سب چہرے پر مسکراہٹ پھیلا دی۔ اختتامی کلمات میں چھوٹے سے جھنڈا پکڑ کر ''دل پاکستان'' کہتے ہوئے بچوں نے مدرسِ اعلیٰ کی تقریر میں گلدستہ پیش کیا اور پھولوں کا گلدستہ ادا کیا اور تعریفی سند کی نعمت پیش کی۔ مدرسِ اعلیٰ نے مہمانِ خصوصی کا شکریہ ادا کیا اور وطن کی نعمت اور قدر کرنے کی نصیحت کی۔ یوں یہ دل چسپ و رنگارنگ اور رنگارنگ تقریب دس بجے اختتام پذیر ہوئی۔

📝 اب اپنا علم آزمائیں!

سبق پڑھ لیا؟ اب یوم آزادی کے بارے میں کوئز دیں اور اپنے نمبر دیکھیں

📊 ۱۵ سوالات ⏱ ۱۵ منٹ 🎯 ۵۰٪ پاس 🔀 رینڈم سوالات
TEC

🇵🇰 یوم آزادی — کوئز

اردو | جماعت ہفتم | TEC

📚
کوئز میں خوش آمدید!
سبق "یوم آزادی" پڑھنے کے بعد اپنی معلومات آزمائیں۔ اپنی معلومات درج کریں اور کوئز شروع کریں۔
۱۵
سوالات
۱۵
منٹ
۵۰٪
پاس مارکس
سوال 1 / 15
15:00
جوابات: 0/15
سوال نمبر ۱
    فیصد نمبر
    15
    کل سوالات
    0
    درست ✓
    0
    غلط ✗
    0
    بغیر جواب
    🏆 سرٹیفیکیٹ
    TEC — The Education Consultancy
    یہ سرٹیفیکیٹ دیا جاتا ہے
    جماعت: | رول:

    📋 جوابات کا جائزہ